نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 392 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 392

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۹۰ نور القرآن نمبر ۲ دقیقہ پر نکتہ چینی کر سکے ۔ باقی رہا یہ کہ خندق کھودنے کے وقت چار نمازیں جمع کی گئیں اس احمقانہ وسوسہ کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ دین میں حرج نہیں ہے یعنی ایسی سختی نہیں جو انسان کی تباہی کا موجب ہو اس لئے اس نے ضرورتوں کے وقت اور بلاؤں کی حالت میں نمازوں کے جمع کرنے اور قصر کرنے کا حکم دیا ہے مگر اس مقام میں ہماری کسی معتبر حدیث میں چار جمع کرنے کا ذکر نہیں بلکہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ واقعہ صرف یہ ہوا تھا کہ ایک نما ز یعنی صلوة العصر معمول سے تنگ وقت میں ادا کی گئی ۔ اگر آپ اس وقت ہمارے سامنے ہوتے تو ہم آپ کو ذرہ بٹھا کر پوچھتے کہ کیا یہ متفق علیہ روایت ہے کہ چار نمازیں فوت ہو گئی تھیں ۔ چار نمازیں تو خود شرع کی رو سے جمع ہو سکتی ہیں یعنی ظہر اور عصر ۔ اور مغرب اور عشاء ۔ ہاں ایک روایت ضعیف میں ہے کہ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو اکٹھی کر کے پڑھی گئی تھیں لیکن دوسری صحیح حدیثیں اس کو رد کرتی ہیں اور صرف یہی ثابت ہوتا ہے کہ عصر تنگ وقت میں پڑھی گئی تھی ۔ آپ عربی علم سے محض بے نصیب اور سخت جاہل ہیں ذرا قادیان کی طرف آؤ اور ہمیں ملو تو پھر آپ کے آگے کتا بیں رکھی جائیں گی تا جھوٹے مفتری کو کچھ سزا تو ہو ندامت کی سزا ہی سہی اگر چہ ایسے لوگ شرمندہ بھی نہیں ہوا کرتے ۔ مال مسروقہ کو آپ کے مسیح کے روبرو بزرگ حواریوں کا کھانا