نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 383

روحانی خزائن جلد ؟ ۳۸۱ نور القرآن نمبر ۲ میری حالت قابل رغبت نہیں رہی ایسا نہ ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باعث طبعی کراہت کے جو نشاء بشریت کو لازم ہے مجھ کو طلاق دے دیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی امر کراہت کا بھی اس نے اپنے دل میں سمجھ لیا ہو اور اس سے طلاق کا اندیشہ دل میں جم گیا ہو کیونکہ عورتوں کے مزاج میں ایسے معاملات میں وہم اور وسوسہ بہت ہوا کرتا ہے اس لئے اس نے خود بخود ہی عرض کر دیا کہ میں اس کے سوا اور کچھ نہیں چاہتی کہ آپ کی ازواج میں میرا حشر ہو۔ چنانچہ نیل الاوطار کے ص ۱۴۰ میں یہ حدیث ہے: قَالَت سَوْدَة بنت زمعة حيـن اسـنـت و خـافـت آن يفارقها رسول الله يا رسول الله لعائشة يومى فقبل ذلك منها۔۔۔ و رواه ايضًا ابن سعد و سعيد بن منصور والترمذى و عبد الرزاق قال الحافظ في الفتح فتواردت هذه الروايات على انها خشيت الطلاق فوهبت یعنی سودہ بنت زمعہ کو جب اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے اس بات کا خوف ہوا کہ اب شائد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہو جاؤں گی تو اس نے کہا یا رسول اللہ میں نے اپنی نوبت عائشہ کو بخش دی۔ آپ نے یہ اس کی درخواست قبول فرما لی ۔ ابن سعد اور سعید ابن منصور اور ترمذی اور عبد الرزاق نے بھی یہی روایت کی ہے اور فتح الباری میں لکھا ہے کہ اسی پر روایتوں کا توارد ہے کہ سودہ کو آپ ہی طلاق کا اندیشہ ہوا تھا ۔ اب اس حدیث سے ظاہر ہے کہ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ارادہ ظاہر نہیں ہوا بلکہ سودہ نے اپنی پیرانہ سالی کی حالت پر نظر کر کے خود ہی اپنے دل میں یہ خیال قائم کر لیا تھا اور اگر ان روایات کے توارد اور تظاهر کو نظر انداز کر کے فرض بھی کر لیں کہ آنحضرت نے طبعی کراہت کے باعث سودہ کو پیرانہ سالی کی حالت میں پا کر طلاق کا ارادہ کیا تھا تو اس میں نیل الاوطار كتاب الوليمة کے متعلقہ حوالہ میں قالت لکھا ہے جو درست ہے۔ ایڈیشن اول میں سہو کتابت سے قال لکھا گیا ہے۔ (ناشر)