نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 382 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 382

روحانی خزائن جلد ۹۔ V نور القرآن نمبر ۲ ملکیت نہ تھا بلکہ غیر کی ملک تھا۔ اگر وہ شخص گورنمنٹ کے سامنے یہ حرکت کرتا تو گورنمنٹ اس کو کیا سزا دیتی۔ انجیل سے یہ بھی ثابت ہے کہ بہت سے سو ر جو بیگا نہ مال تھے اور جن کی تعداد بقول پادری کلارک دو ہزار تھے مسیح نے تلف کئے اب آپ ہی بتلائیں کہ تعزیرات کی رو سے اس کی سزا کیا ہے۔ بالفعل اسی قدر لکھنا کافی ہے جواب ضرور لکھیں تا اور بہت سے سوال کئے جائیں۔ پادری صاحب! آپ کا یہ خیال کہ نو برس کی لڑکی سے جماع کرنا زنا کے حکم میں ہے سراسر غلط ہے آپ کی ایمانداری یہ تھی کہ آپ انجیل سے اس کو ثابت کرتے ۔ انجیل نے آپ کو دھکے دئے اور وہاں ہاتھ نہ پڑا تو گورنمنٹ کے پیروں پر آ پڑے۔ یادرکھیں کہ یہ گالیاں محض شیطانی تعصب سے ہیں ۔ جناب مقدس نبوی کی نسبت فسق و فجور کی تہمت لگانا یہ افتر شیطانوں کا کام ہے ان دو مقدس نبیوں پر یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح علیہ السلام پر بعض بدذات اور خبیث لوگوں نے سخت افترا کئے ہیں ۔ چنانچہ ان پلیدوں نے لعنۃ اللہ علیھم پہلے نبی کو تو زانی قرار دیا جیسا کہ آپ نے اور دوسرے کو ولد الزنا کہا جیسا کہ پلید طبع یہودیوں نے ۔ آپ کو چاہیے کہ ایسے اعتراضوں سے پر ہیز کریں۔ اور یہ اعتراض کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی سودہ کو پیرانہ سالی کے سبب سے طلاق دینے کے لئے مستعد ہو گئے تھے۔ سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہے اور جن لوگوں نے ایسی روائتیں کی ہیں وہ اس بات کا ثبوت نہیں دے سکے کہ کس شخص کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ارادہ ظاہر کیا پس اصل حقیقت جیسا کہ کتب معتبرہ احادیث میں مذکور ہے یہ ہے کہ خود سودہ نے ہی اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے دل میں یہ خوف کیا کہ اب