نورالقرآن نمبر 1

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 357 of 581

نورالقرآن نمبر 1 — Page 357

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۵۵ نور القرآن نمبرا فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا لے یعنی جبکہ آنے والی مدد اور فتح آگئی جس کا وعدہ دیا گیا تھا اور تو نے دیکھ لیا کہ لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہوتے جاتے ہیں۔ پس خدا کی حمد اور تسبیح کر یعنی یہ کہہ کہ یہ جو ہوا وہ مجھ سے نہیں بلکہ اس کے فضل اور کرم اور تائید سے ہے اور الوداعی استغفار کر کیونکہ وہ رحمت کے ساتھ بہت ہی رجوع کرنے والا ہے۔ استغفار کی تعلیم جو نبیوں کو دی جاتی ہے اس کو عام لوگوں کے گناہ میں داخل کرنا عین حماقت ہے ۔ بلکہ دوسرے لفظوں میں یہ لفظ اپنی نیستی اور تذلل اور کمزوری کا اقرار اور مدد طلب کرنے کا متواضعانہ طریق ہے چونکہ اس سورۃ میں فرمایا گیا ہے کہ جس کام کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے وہ پورا ہو گیا یعنی یہ کہ ہزار ہا لوگوں نے دین اسلام قبول کر لیا۔ اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی طرف بھی اشارہ ہے۔ چنانچہ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک برس کے اندر فوت ہو گئے پس ضرور تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نزول سے جیسا کہ خوش ہوئے تھے غمگین بھی ہوں کیونکہ باغ تو لگایا گیا مگر ہمیشہ کی آب پاشی کا کیا انتظام ہوا سو خدا تعالیٰ نے اسی غم کے دور کرنے کے لئے استغفار کا حکم دیا۔ کیونکہ لغت میں ایسے ڈھانکنے کو کہتے ہیں جس سے انسان آفات سے محفوظ رہے ۔ اس وجہ سے مغفر جو خود کے معنی رکھتا ہے اس میں سے نکالا گیا ہے اور مغفرت مانگنے سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ بقیہ حاشیہ ہے کہ دیکھ میں نے تیری مراد پوری کر دی اور کم و بیش اس مراد کا ہر ایک نبی کو خیال تھا مگر چونکہ اس درجہ کا جوش نہیں تھا اس لئے نہ مسیح کو اور نہ موسی کو یہ خوشخبری ملی بلکہ اسی کو ملی جس کے حق میں قرآن میں فرمایالَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ یعنی کیا تو اس غم سے ہلاک ہو جاوے گا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے ۔ منہ النصر : ۲ تا ۴ الشعراء :