نورالقرآن نمبر 1

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 352 of 581

نورالقرآن نمبر 1 — Page 352

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۵۰ نور القرآن نمبرا نبی کے آنے کی علت غائی ہوتے ہیں۔ اب دیکھو یہ آیت کس زور شور سے بتلا رہی (17) بقیہ حاشیہ تو اس نے فی الفور یہ دو شعر پڑھ کر سنادئیے۔ اذا ماندیمی علنى ثم علنى ثلث زجاجات لهن هدير جعلت اجر الذيل مني كانني علیک امیر المؤمنین امیر یعنی جب میرے ساقی نے تین ایسی بوتلوں کی مجھے شراب پلائی جن کے شراب نکالنے کے وقت ایک خوش آواز تھی تو میں مستی سے ایسا دامن کشاں چلنے لگا کہ گویا تیرے پر یا امیر المومنین میں امیر ہوں۔ غرض چونکہ اکابر اسلام نے مسلمان ہونے کے لئے کبھی کسی پر جبر نہیں کیا اس لئے بحر تبلیغ کے اور کچھ بھی اس پر رنبخش ظاہر نہ کی گئی اور وہ مروانی ملوک کے دربار میں ہزار ہا روپیہ کا انعام پا تارہا اور وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی پیدا ہوا تھا اور ہر چہار خلیفہ رضی اللہ عنہم کا اس نے زمانہ پایا تھا اور بلا دشام میں رہتا تھا اور خوب بڑھا ہو کر فوت ہوا۔ اس نے یہ نہایت عمدہ کام کیا کہ اپنے اشعار میں عیسائی چال چلن کا نقشہ کھینچ کر دکھلا دیا ہے اور نہایت صاف گواہی دے دی کہ اس وقت کے عیسائی لوگ نہایت مکرو ہ بد چلنیوں میں گرفتار تھے اور شراب خوری اور ہر قسم کی بدکاری ان پر غالب آگئی تھی اور چونکہ عیسائی مذہب کا اصل مبدء اور منبع بلاد شام ہی ہے جن بلاد کا وہ متوطن تھا اور جن کا نقشہ کھینچ کر اس نے پیش کیا ہے اس سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ کفارہ کا مسئلہ کس قدر جھوٹا اور نابکار فریب ہے جس کا ابتدائے زمانہ میں ہی یہ اثر ثابت ہوا کہ عیسائی لوگ ہر قسم کے فسق و فجور میں مبتلا ہو گئے۔ اخطل کا زمانہ حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ سے کچھ بہت دور نہیں تھا صرف چھ سو برس گزرے تھے مگر اخطل کی گواہی اور اس کے اپنے اقرار سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت کے عیسائی اپنی بد چلنیوں کی رو سے بت پرستوں سے بھی زیادہ گرے ہوئے تھے پس جبکہ تازہ تازہ زمانہ میں کفارہ نے یہ اثر کیا تو وہ لوگ سخت بے وقوف ہیں کہ اب انیسویں صدی میں اس آزمودہ کفارہ سے کوئی بہتری کی امید رکھتے ہیں۔ اس زمانہ کی عیسائیت کی چال و چلن کے متعلق ایک وہ بھی قصیدہ ہے جو سبعہ معلقہ