نورالقرآن نمبر 1

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 581

نورالقرآن نمبر 1 — Page 342

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۴۰ نور القرآن نمبرا بلائے جانا اور ان دونوں پہلوؤں کا قرآن کا آپ پیش کرنا اور آپ دنیا کو اس کی طرف توجہ دلانا یہ ایک ایسا امر ہے کہ انجیل تو کیا بجز قرآن شریف کسی پہلی کتاب میں بھی نہیں پایا جا تا ۔ قرآن شریف نے آپ یہ دلائل پیش کئے ہیں اور آپ فرما دیا ہے کہ اس کی سچائی ان دو پہلوؤں پر نظر ڈالنے سے ثابت ہوتی ہے یعنی ایک تو وہی جو ہم بیان کر چکے ہیں کہ ایسے زمانہ میں ظہور فرمایا جبکہ زمانہ میں عام طور پر طرح طرح کی بدکاریاں بد اعتقادیاں پھیل گئی تھیں اور دنیا حق اور حقیقت اور توحید اور پاکیزگی سے بہت دور جا پڑی تھی اور قرآن شریف کے اس قول کی اس وقت تصدیق ہوتی ہے۔ جبکہ ہر ایک قوم کی تاریخ اس زمانہ کے متعلق پڑھی جائے ۔ کیونکہ ہر یک قوم کے اقرار سے یہ عام شہادت پیدا ہوتی ہے کہ در حقیقت وہ ایسا پُر ظلمت زمانہ تھا کہ ہر ایک قوم مخلوق پرستی کی طرف جھک گئی تھی اور یہی وجہ ہے کہ جب قرآن نے تمام قوموں کو گمراہ اور بد کار قرار دیا تو کوئی اپنا بری ہونا ثابت نہ کر سکا۔ دیکھو اللہ تعالیٰ کیسے زور سے اہل کتاب کی بدیوں اور تمام دنیا کے (۸) مرجانے کا ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْآمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فُسِقُوْنَ اِعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْأَيْتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ( سورۃ الحدید جز ونمبر ۲۷ رکوع ۱۷) یعنی مومنوں کو چاہیے کہ اہل کتاب کی چال و چلن سے پر ہیز کر یں ان کو اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی ۔ پس ان پر ایک زمانہ گذر گیا سوان کے دل سخت ہو گئے اور اکثر ان میں سے فاسق اور بد کا رہی ہیں۔ یہ بات بھی جانو کہ زمین مرگئی تھی اور اب خدا نئے سرے سے زمین کو زندہ کر رہا ہے یہ قرآن کی ضرورت اور سچائی کے نشان ہیں جو اس لئے بیان کئے گئے تا کہ تم نشانوں کو الحديد: ۱۸،۱۷