نورالقرآن نمبر 1 — Page 340
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۳۸ نور القرآن نمبرا میں حد اعتدال سے گذر گئے ہو اور فرمایا اِعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا یعنی یہ بات تمہیں معلوم رہے کہ زمین سب کی سب مرگئی تھی ۔ اب خدا نئے سرے اس کو زندہ کرتا ہے۔ غرض تمام دنیا کو قرآن نے شرک اور فسق اور بت پرستی کے الزام سے ملزم کیا جو أم الخبائث ہیں اور عیسائیوں اور یہودیوں کو دنیا کی تمام بدکاریوں کی جڑ ٹھہرایا اور ہر یک قسم کی بدکاریاں ان کی بیان کر دیں اور ایک ایسا نقشہ کھینچ کر زمانہ موجودہ کا اعمال نامہ دکھلا دیا کہ جب سے دنیا کی بناء پڑی ہے بجز نوح کے زمانہ کے اور کوئی زمانہ اس زمانہ سے مشابہ نظر نہیں آتا اور ہم نے اس جگہ جس قدر آیات لکھ دی ہیں وہ اتمام حجت کے لئے اول درجہ پر کام دیتی ہیں۔ لہذا ہم نے طول کے خوف سے تمام آیات کو نہیں لکھا۔ ناظرین کو چاہیے کہ قرآن شریف کو غور سے پڑھیں تا انہیں معلوم ہو کہ کس شد و مد اور کس قدر مؤثر کلام سے جابجا قرآن شریف بیان کر رہا ہے کہ تمام دنیا بگڑ گئی ۔ تمام زمین مرگئی اور لوگ دوزخ کے گڑھے کے قریب پہنچ گئے اور کیسے بار بار کہتا ہے کہ تمام دنیا کو ڈرا کہ وہ خطرناک حالت میں پڑی ہیں۔ یقیناً قرآن کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شرک اور فسق اور بت پرستی اور طرح طرح کے گناہوں میں سرگئی اور بدکاریوں بقیه حاشیه : زندہ درگور کرتا ہے اور فرماتا ہے وَإِذَا الْمَوْءُ دَةُ سُبِلَتْ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ ! یعنی قیامت کو زندہ درگورلڑکیوں سے سوال ہوگا کہ وہ کس گناہ سے قتل کی گئیں یہ اشارہ ملک کی موجودہ حالت کی طرف کیا کہ ایسے ایسے بُرے کام ہو رہے ہیں اسی کی طرف عرب کے ایک پرانے شاعر ابن الاعرابی نے اشارہ کیا ہے چنانچہ وہ کہتا ہے مالقى المؤود مـن ظـلــم أمــه كما لقيت ذهل جميعا و عامر یعنی زنده در گورلڑکی پر اس کی ماں کی طرف سے وہ ظلم نہیں ہوتا جیسا کہ ڈبل اور عامر پر ہوا۔ منہ الحديد: ۱۸ التكوير: ٩، ١٠