نورالقرآن نمبر 1

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 581

نورالقرآن نمبر 1 — Page 340

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۳۸ نور القرآن نمبرا میں حد اعتدال سے گذر گئے ہوا اور فرمایا اِعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا یعنی یہ بات تمہیں معلوم رہے کہ زمین سب کی سب مر گئی تھی ۔ اب خدا نئے سرے اس کو زندہ کرتا ہے۔ غرض تمام دنیا کو قرآن نے شرک اور فسق اور بت پرستی کے الزام سے ملزم کیا جو ام الخبائث ہیں اور عیسائیوں اور یہودیوں کو دنیا کی تمام بدکاریوں کی جڑ ٹھہرایا اور ہر یک قسم کی بدکاریاں ان کی بیان کر دیں اور ایک ایسا نقشہ کھینچ کر زمانہ موجودہ کا اعمال نامہ دکھلا دیا کہ جب سے دنیا کی بناء پڑی ہے بجز نوح کے زمانہ کے اور کوئی زمانہ اس زمانہ سے مشابہ نظر نہیں آتا اور ہم نے اس جگہ جس قدر آیات لکھ دی ہیں وہ اتمام حجت کے لئے اول درجہ پر کام دیتی ہیں ۔ لہذا ہم نے طول کے خوف سے تمام آیات کو نہیں لکھا۔ ناظرین کو چاہیے کہ قرآن شریف کو غور سے پڑھیں تا انہیں معلوم ہو کہ کسی شد و مد اور کس قدر مؤثر کلام سے ۔ تلام سے جا بجا قرآن شریف بیان کر رہا ہے کہ تمام دنیا بگڑ گئی ۔ تمام زمین مرگئی اور لوگ دوزخ کے گڑھے کے قریب پہنچ گئے اور کیسے بار بار کہتا ہے کہ تمام دنیا کو ڈرا کہ وہ خطرناک حالت میں پڑی ہیں ۔ یقیناً قرآن کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شرک اور فسق اور بت پرستی اور طرح طرح کے گناہوں میں سڑ گئی اور بدکاریوں بقیه حاشیه : زندہ درگور کرتا ہے اور فرماتا ہے وَإِذَا الْمَوْدَةُ سُبِلَتْ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ کے یعنی قیامت کو زندہ درگور لڑکیوں سے سوال ہوگا کہ وہ کس گناہ سے قتل کی گئیں یہ اشارہ ملک کی موجودہ حالت کی طرف کیا کہ ایسے ایسے بُرے کام ہو رہے ہیں اسی کی طرف عرب کے ایک پرانے شاعر ابن الاعرابی نے اشارہ کیا ہے چنانچہ وہ کہتا ہے ما لقى المؤود من ظلم أمه كما لقيت ذهل جميعا و عامر یعنی زندہ درگورلڑ کی پر اس کی ماں کی طرف سے وہ ظلم نہیں ہوتا جیسا کہ ذہل اور عامر پر ہوا۔ منہ الحديد : ۱۸ التكوير : ١٠٠٩