نورالقرآن نمبر 1 — Page 338
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۳۶ نور القرآن نمبرا کہ یہ طریق ثبوت ان کے مذہب میں ہرگز پایا نہیں جاتا۔ پس اگر ہم غلطی پر ہیں تو ہماری غلطی ثابت کریں اور وہ پہلی دلیل جو قرآن شریف نے اپنے منجانب اللہ ہونے پر پیش کی ہے۔ اُس کی تفصیل یہ ہے کہ عقل سلیم ایک سچی کتاب اور ایک بچے اور منجانب اللہ رسول کے ماننے کے لئے اس بات کو نہایت بزرگ دلیل ٹھہراتی ہے کہ ان کا ظہور ایک ایسے وقت میں ہو جبکہ زمانہ تاریکی میں پڑا ہو۔ اور لوگوں نے توحید کی جگہ شرک اور پاکیزگی کی جگہ فسق اور انصاف کی جگہ ظلم اور علم کی جگہ جہل اختیار کر لیا ہو اور ایک مصلح کی اشد حاجت ہو اور پھر ایسے وقت میں وہ رسول دنیا سے رخصت ہو جبکہ وہ اصلاح کا کام عمدہ طور سے کر چکا ہو اور جب تک اس نے اصلاح نہ کی ہو دشمنوں سے محفوظ رکھا گیا ہو اور نوکروں کی طرح حکم سے آیا ہو اور حکم سے واپس گیا ہو ۔ غرض کہ وہ ایسے وقت میں ظاہر ہو جبکہ وہ وقت بزبان حال پکار پکار کر کہہ رہا ہو کہ ایک آسمانی مصلح اور کتاب کا آنا ضروری ہے اور پھر ایسے وقت میں الہامی پیشگوئی کے ذریعہ سے واپس بلایا جاوے کہ جب اصلاح کے پودہ کو مستحکم کر چکا ہو اور ایک عظیم الشان انقلاب ظہور میں آچکا ہو ۔ اب ہم اس بات کو بڑے فخر کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ یہ دلیل جس طرح قرآن اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں نہایت روشن چہرہ کے ساتھ جلوہ نما ہوئی ہے کسی اور نبی اور کتاب کے حق میں ہرگز ظاہر نہیں ہوئی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعوی تھا کہ میں تمام قوموں کے لئے آیا ہوں سو قرآن شریف نے تمام قوموں کو ملزم کیا ہے کہ وہ طرح طرح کے شرک اور فسق اور فجور میں مبتلا ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ یعنی دریا بھی بگڑ گئے اور جنگل بھی بگڑ گئے ۔ اور پھر فرماتا ہے لِيَكُونَ لِلْعَلَمِيْنَ نَذِيرًا یعنی ہم نے تجھے بھیجا تا کہ تو دنیا کی تمام قوموں الروم:٤٢ الفرقان : ۲