نورالقرآن نمبر 1 — Page 329
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۲۷ نور القرآن نمبرا مشابہ ہیں جو فطری نظام کو بکلی کھو بیٹھے ہیں۔ اور کافی ذخیرہ مفردات کا جو کامل زبان کے لئے شرط ضروری ہے اپنے ساتھ نہیں رکھتے ۔ لیکن اگر ہم کسی آریہ صاحب یا کسی پادری صاحب کی رائے میں غلطی پر ہیں اور ہماری یہ تحقیقات ان کی رائے میں اس وجہ سے صحیح نہیں ہے کہ ہم ان زبانوں سے ناواقف ہیں ۔ تو اول ہماری طرف سے جواب یہ ہے کہ جس طرز سے ہم نے اس بحث کا فیصلہ کیا ہے اس میں کچھ ضروری نہ تھا کہ ہم سنسکرت وغیرہ زبانوں کے املاء انشاء سے بخوبی واقف ہو جائیں ۔ ہمیں صرف سنسکرت وغیرہ کے مفردات کی ضرورت تھی سو ہم نے کافی ذخیرہ مفردات کا جمع کر لیا ہے اور پنڈتوں اور یورپ کے زبانوں کے ماہروں کی ایک جماعت سے ان مفردات کے معنوں کی بھی جہاں تک ممکن تھا تنقیح کر لی اور انگریز محققوں کی کتابوں کو بھی بخوبی غور سے سن لیا۔ اور ان باتوں کو مباحثات میں ڈال کر بخوبی صاف کر لیا ۔ اور پھر سنسکرت وغیرہ زبان دانوں سے مکر رشہادت لے لی جس سے یقین ہو گیا کہ در حقیقت و یدک سنسکرت وغیرہ زبانیں ان خوبیوں سے عاری اور بے بہرہ ہیں جو عربی زبان میں ثابت ہوئیں ۔ پھر دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر کسی آریہ صاحب یا کسی اور مخالف کو یہ تحقیقات ہماری منظور نہیں تو ان کو ہم بذریعہ اس اشتہار کے اطلاع دیتے ہیں کہ ہم نے زبان عربی کی فضیلت اور کمال اور فوق الالسنہ ہونے کے دلائل اپنی اس کتاب میں مبسوط طور پر لکھ دیئے ہیں جو بہ تفصیل ذیل ہیں۔ (1) عربی کے مفردات کا نظام کامل ہے۔ (۲) عربی اعلی درجہ کی علمی وجوہ تسمیہ پر مشتمل ہے جو فوق العادت ہیں۔ (۳) عربی کا سلسلہ اطراد مواد اتم و اکمل ہے۔