نشانِ آسمانی — Page 434
۴۳۴ نشان آسمانی روحانی خزائن جلد ۴ رو پسید محمد صاحب عرب ابھی ارسال خدمت ہیں اور مابعد میں عنقریب ایک سورو پسیہ یا اس سے دس ہیں روپیہ زائد بھیجتا ہوں یا جلد تر خود لے کر باریاب خدمت ہوں گا ورنہ منی آرڈر بھیج دوں گا۔ ایک سو روپیہ پہنچ گیا ) حکیم صاحب موصوف پہلے بھی تخمینا سات سو روپیہ امداد کے طور پر دے چکے ہیں۔ خلاصہ خط اخویم حضرت مولوی حکیم نوردین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ معالج ریاست جموں نحمده ونصلى على رسوله الكريم مع التسليم اما بعد ایک خاکسار بالکل نابکار اور خاکساری کے ساتھ نہایت ہی شرمسار بحضور حضرت مسیح الزمان عرض پرداز۔ اس خادم با اخلاص اور دلی مرید کا جو کچھ ہے۔ بتمامہ آپ ہی کا ہے۔ زن و فرزند روپیہ آبرو و جان ۔ میری یہی سعادت ہے کہ تمام خرچ میرا ہو پھر جس قدر حضور پسند فرماویں۔ برادرم فصیح بھی اس وقت موجود ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر میرے مطبع پنجاب پریس سیالکوٹ میں حضور رسالہ کو طبع فرماویں تو چہارم حصہ قیمت کا منافع رہے گا۔ مولوی حکیم نور دین صاحب اپنے اخلاص اور محبت اور صفت ایثار اور اللہ شجاعت اور سخاوت اور ہمدردی اسلام میں عجیب شان رکھتے ہیں۔ کثرت مال کے ساتھ کچھ قدر قلیل خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہوئے تو بہتوں کو دیکھا مگر خود بھو کے پیاسے رہ کر اپنا عزیز مال رضائے مولیٰ میں اٹھا دینا اور اپنے لئے دنیا میں سے کچھ نہ بنانا یہ صفت کامل طور پر مولوی صاحب موصوف میں ہی دیکھی یا ان میں جن کے دلوں پر ان کی صحبت کا اثر ہے مولوی صاحب موصوف اب تک تین ہزار روپیہ کے قریب للہ اس عاجز کو دے چکے ہیں اور جس قدر ان کے مال سے مجھ کو مدد پہنچی ہے اس کی نظیر اب تک کوئی میرے پاس نہیں۔ اگر چہ یہ طریق دنیا اور معاشرت کے اصولوں کے مخالف ہے مگر جو شخص خدائے تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لا کر اور دین اسلام کو ایک سچا اور منجانب اللہ دین سمجھ کر اور با ایں ہمہ اپنے زمانہ کے امام کو بھی شناخت کر کے اللہ جل شانہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی محبت اور عشق میں فانی ہو کر محض اعلاء کلمہ اسلام کیلئے اپنے مال حلال اور طیب کو اس راہ میں فدا کرتا ہے اس کا جو عند اللہ قدر ہے وہ ظاہر ہے اللہ جل شانہ فرماتا ہے لن تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ل خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اس پر نثار اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب کہ راضی وہ دلدار ہوتا ہے؟ اُسے دے چکے مال و جان بار بار ابھی خوف دل میں کہ ہیں نابکار آل عمران ۹۳