نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 426 of 598

نشانِ آسمانی — Page 426

روحانی خزائن جلد۴ ۴۲۶ شیخ بٹالوی صاحب کے فتویٰ تکفیر کی کیفیت نشان آسمانی اس فتویٰ کو میں نے اول سے آخر تک دیکھا ۔ جن الزامات کی بنا پر یہ فتویٰ لکھا ہے انشاء اللہ بہت جلد ان الزامات کے غلط اور خلاف واقعہ ہونے کے بارے میں ایک رسالہ اس عاجز کی طرف سے شائع ہونے والا ہے جس کا نام دافع الوساوس ہے با ایں ہمہ مجھ کو ان لوگوں کے لعن و طعن پر کچھ افسوس نہیں اور نہ کچھ اندیشہ بلکہ میں خوش ہوں کہ میاں نذیر حسین اور شیخ بٹالوی اور ان کے اتباع نے مجھ کو کافر اور مردود اور ملعون اور دجال اور ضال اور بے ایمان اور جہنمی اور ا کفر کہہ کر اپنے دل کے وہ بخارات نکال لئے جو دیانت اور امانت اور تقویٰ کے التزام سے ہر گز نہیں نکل سکتے تھے اور جس قدر میری اتمام حجت اور میری سچائی کی تلخی سے ان حضرات کو زخم پر زخم پہنچا۔ اس صدمہ عظیمہ کا غم غلط کرنے کیلئے کوئی اور طریق بھی تو نہیں تھا بجز اس کے کہ لعنتوں پر آ جاتے مجھے اس بات کو سوچ کر بھی خوشی ہے کہ جو کچھ یہودیوں کے فقیہوں اور مولویوں نے آخر کار حضرت مسیح علیہ السلام کو تحفہ دیا تھا وہ بھی تو یہی لعنتیں اور تکفیر تھی جیسا کہ اہل کتاب کی تاریخ اور ہر چہار انجیل سے ظاہر ہے تو پھر مجھے مثیل مسیح ہونے کی حالت میں ان لعنتوں کی آوازیں سن کر بہت ہی خوش ہونا چاہئے کیونکہ جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے مجھ کو حقیقت دجّالیہ کے ہلاک اور فانی کرنے کے لئے حقیقت عیسویہ سے متصف کیا۔ ایسا ہی اس نے اس حقیقت کے متعلق جو جو نوازل و آفات تھے ان سے بھی خالی نہ رکھا لیکن اگر کچھ افسوس ہے تو صرف یہ کہ بٹالوی صاحب کو اس فتوے کے طیار کرنے میں یہودیوں کے فقیہوں سے بھی زیادہ خیانت کرنی پڑی اور وہ خیانت تین قسم کی ہے اول یہ کہ بعض لوگ جو مولویت اور فتوی دینے کا منصب نہیں رکھتے وہ صرف