نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 424 of 598

نشانِ آسمانی — Page 424

روحانی خزائن جلد۴ ۴۲۴ نشان آسمانی کہ جب ایک معقول اندازہ ان خوابوں اور الہاموں کا ہو جائے تو ان کو ایک رسالہ مستقلہ کی صورت میں طبع کر کے شائع کیا جائے ۔ کیونکہ یہ بھی ایک شہادت آسمانی اور نعمت الہی ہے اور خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِتْ لیکن پہلے اس سے ضروری طور پر یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ آئندہ ہر ایک صاحب جو کوئی خواب یا الہام اس عاجز کی نسبت دیکھ کر بذریعہ خط اس سے مطلع کرنا چاہیں تو ان پر واجب ہے کہ خدائے تعالیٰ کی قسم کھا کر اپنے خط کے ذریعہ سے اس بات کو ظاہر کریں کہ ہم نے واقعی اور یقینی طور پر یہ خواب دیکھی ہے اور اگر ہم نے کچھ اس میں ملایا ہے تو ہم پر اسی دنیا اور آخرت میں لعنت اور عذاب الہی نازل ہو اور جو صاحب پہلے قسم کھا کر اپنی خواہیں بیان کر چکے ہیں ان کو دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں مگر وہ تمام صاحب جنہوں نے خوا میں یا الہامات تو لکھ کر بھیجے تھے لیکن وہ بیانات ان کے موکد بقسم نہیں تھے ان پر واجب ہے کہ پھر دوبارہ ان خوابوں یا الہامات کو قسم کے ساتھ موکد کر کے ارسال فرمادیں اور یادر ہے کہ بغیر قسم کے کوئی خواب یا الہام یا کشف کسی کا نہیں لکھا جاوے گا۔ اور قسم بھی اس طرز کی چاہئے جو ہم نے ابھی بیان کی ہے۔ اس جگہ یہ بھی بطور تبلیغ کے لکھتا ہوں کہ حق کے طالب جو مواخذہ الہی سے ڈرتے ہیں وہ بلا تحقیق اس زمانہ کے مولویوں کے پیچھے نہ چلیں اور آخری زمانہ کے مولویوں (۳۷) سے جیسا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے ویسا ہی ڈرتے رہیں اور ان کے فتووں کو دیکھ کر حیران نہ ہو جاویں کیونکہ یہ فتوے کوئی نئی بات نہیں اور اگر اس عاجز پر شک ہو اور وہ دعوئی جو اس عاجز نے کیا ہے اس کی صحت کی نسبت دل میں شبہ ہو تو میں ایک آسان صورت رفع شک کی بتلاتا ہوں جس سے ایک طالب صادق انشاء اللہ مطمئن ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اول تو بہ نصوح کر کے رات کے وقت دورکعت نماز پڑھیں جس کی پہلی رکعت میں سورۃ بیبین اور دوسری رکعت میں ۱۲: