نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 420 of 598

نشانِ آسمانی — Page 420

روحانی خزائن جلد۴ ۴۲۰ نشان آسمانی جس میں کسی دست بازی اور مکر اور فریب کی گنجائش نہیں ۔ اب اگر کوئی صوفی پردہ نشین جو پردہ سے نکلنا نہیں چاہتا بقول بٹالوی صاحب اور میر عباس علی صاحب لدھیانوی کے بالمقابل نشان دکھلانے کو طیار ہے تو وہ بھی ایسی ہی دو پیشگوئیاں ان ہی ثبوتوں کے ساتھ اپنے حق میں کسی گذشتہ ولی کی طرف سے پیش کرے ۔ ہم خدائے تعالیٰ کی قسم یاد کر کے ۳۳ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ بھی ایسے ہی نشان اور اسی درجہ ثبوت پر اور ایسی عظمت کے ساتھ باعتبار اپنے بعد زمانہ کے پائے گئے ہیں تو ہم سزائے موت اٹھانے کیلئے بھی طیار ہیں۔ اور اس عاجز کی اپنی گذشتہ پیشگوئیاں تین ہزار کے قریب ہیں جو اکثر استجابت دعا کے بعد ظہور میں آئی ہیں۔ ان میں سے دلیپ سنگھ کے روکے جانے کی پیشگوئی ہے یعنی یہ کہ وہ اپنے قصد ارادہ پنجاب سے ناکام رہے گا۔ یہ پیشگوئی اجمالی طور پر اشتہار میں چھپ چکی ہے اور صدہا آدمیوں کو زبانی سنائی گئی ۔ اسی طرح پنڈت دیا نند کے فوت ہونے کی نسبت پیشگوئی اور شیخ مہر علی صاحب رئیس کے ابتلا اور پھر رہائی کی نسبت پیشگوئی ۔ بٹالوی صاحب کے مخالف ہو جانے کی نسبت پیشگوئی وغیرہ پیشگوئیاں جن کا مفصل ذکر موجب طول ہے ۔ اگر فریق مخالف کے مولویوں میں کچھ ایمان ہے تو ان پیشگوئیوں کے بارے میں بھی ایک جلسہ مقرر کر کے اول ہم سے ثبوت لیں اور پھر اس کے موافق اپنی طرف سے پیشگوئیوں کا ثبوت دیں اور اگر باعث اپنی تہی دستی کے ان دونوں طوروں مقابلہ سے عاجز آ جائیں تو یہ بھی اختیار ہے کہ ایک سال کی مہلت پر آئندہ کیلئے آزمائش کر لیں کسی بڑے جھگڑے کی ضرورت نہیں ہر یک پیشگوئی جو کسی دعا کی قبولیت سے ظاہر ہو کسی اخبار میں بقید اس کے وقت ظہور کے چھپوا د یں اور اس طرف سے بھی یہی کا رروائی ہو سال گذرنے کے بعد خود معلوم ہو جائے گا کہ کون مؤید من اللہ اور کون مخذول اور مردود ہے ۔ اگر یہ بھی نہ کریں تو سب لوگ یا درکھیں کہ ان ملاؤں کا ارادہ صرف حق پوشی اور بخل اور نوٹ: شیخ مہر علی صاحب کے ہاتھ میں قرآن شریف دے کر اس پیشگوئی کی نسبت ان کو قسم دینی چاہئے کیونکہ اگر کوئی زمانہ سازی یا مولویوں کے خوف سے انکار کرے تو قسم کے بعد تو ہر گز نہیں کر سکتا ۔ اگر کرے تو حلف دروغی کے وبال سے جلد رسوا ہو جاتا ہے۔ یہ حاشیہ ایڈیشن ۱۸۹۲ء کے صفحہ ۳۶ پر ہے۔ (ناشر)