نشانِ آسمانی — Page 416
روحانی خزائن جلد۴ نشان آسمانی اختیار نہیں اور نہ اس پر کسی کا حکم ہے طلب گار باید صبور وحمول ۔ اگر ان میں کچی طلب ہے اور جہنم کا خوف ہے تو ایک سال کیا دور ہے اور نیز اس جگہ ایک سال سے مراد یہ نہیں کہ سال کے تمام دن پورے ہو جائیں بلکہ خدائے تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس میعاد کے اندر ہی فیصلہ کر دے گا۔ اور قادر ہے کہ ابھی دو ہفتہ بھی نہ گذریں اور نشان ظاہر ہو۔ میں نے مقابلہ کیلئے اس لئے لکھا تھا کہ یہ لوگ نذیر حسین اور بٹالوی وغیرہ اس عاجز کو کھلے کھلے طور پر کافر اور مردود اور ملعون اور دجال اور ضال لکھتے ہیں ۔ یہاں تک کہ ان کے نزدیک میرے پر اعتقاد رکھنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے تو پھر اس صورت میں ضرور تھا کہ ایمانی نشانوں کی آزمائش ہو۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ مومنوں کو خدائے تعالیٰ خاص نشانوں سے ممتاز کر دیتا ہے چنانچہ وہ ان آسمانی نشانوں کی رو سے اپنے غیر سے خواہ وہ کافر ہو یا منافق یا فاسق امتیاز کلی پیدا کر لیتے ہیں۔ سواسی کی طرف ان لوگوں کو بلایا گیا تھا تا معلوم ہو جاوے کہ عند اللہ کون مومن اور کون مورد سخط وغضب الہی ہے اگر ان حضرات کو اپنے ایمان پر کچھ بھروسا ہوتا تو مقابلہ سے فرار نہ کرتے لیکن آج تک کسی نے میدان میں آکر مقابل کا نام بھی نہیں لیا اور اخیر عذر یہ پیش کیا کہ آپ دکھلا دیں ہم قبول کریں گے اور اس کے ساتھ بھی یہ شرطیں لگا دیں کہ تب قبول کریں گے کہ جب آسمان سے من وسلویٰ نازل ہو یا کوئی مجزوم اچھا ہو جائے یا ایک کانے کو (۳۰) دوسری آنکھ مل جائے یا لکڑی کا سانپ بن جائے یا جلتی آگ میں کود پڑیں اور بیچ جائیں دیکھو صفحہ ۵۰ جواب فیصلہ آسمانی۔ ان تمام واہیات باتوں کا جواب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ ان سب باتوں پر قادر ہے اور اس کے علاوہ بے شمار اور نشانوں پر بھی قادر ہے مگر اپنی مصلحت اور مرضی کے موافق کام کرتا ہے پہلے کفار نے یہی سوال کیا تھا۔ فَلْيَأْتِنَا بِايَةِ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُوْنَ یعنی اگر یہ نبی سچا ہے تو موسیٰ وغیرہ انبیاء بنی اسرائیل کے نشانوں کی مانند نشان دکھاوے الانبياء : ٦