نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 598

نشانِ آسمانی — Page 415

روحانی خزائن جلد۴ ۴۱۵ نشان آسمانی اللہ جل شانہ سے ہم کلام ہوتے ہیں اور نبوت تامہ کی بعض صفات ظلمی طور پر اپنے اندر رکھتے ہیں اور بلحاظ بعض وجوہ شان نبوت کے رنگ سے رنمین کئے جاتے ہیں اور ان میں سے میں ایک ہوں۔ لیکن ان بزرگوں نے میرے ان بیانات کو نہ سمجھا خاص کر نذیر حسین پر بہت افسوس ہے جس نے پیرانہ سالی میں اپنی تمام معلومات کو خاک میں ملا دیا۔ غرض میں نے جب دیکھا کہ یہ لوگ قرآن اور حدیث کو چھوڑتے ہیں اور کلام الہی کے الٹے معنے کرتے ہیں تب میں نے ان سے بکلی نومید ہو کر خدائے تعالیٰ سے آسمانی فیصلہ کی درخواست کی اور جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے میرے دل پر القا کیا وہ صورت فیصلہ کیلئے میں نے پیش کر دی۔ اگر ان لوگوں کے دل میں انصاف اور حق طلبی ہوتی تو اس کے قبول کرنے میں توقف نہ کرتے یہ درخواست کس قدر فضول ہے کہ ایک سال کے عرصہ کو جو ایک الہامی امر ہے خود بخود بدلا دیا جائے اور ایک یا دو ہفتے بجائے اس کے مقرر کئے جائیں یہ لوگ نہیں جانتے کہ یہ میعاد منجانب اللہ ہے اور انسان تو اپنے اختیار سے کبھی جرات ہی نہیں کر سکتا کہ خوارق کے دکھلانے کیلئے کوئی میعاد مقرر کر سکے انبیاء نے بھی ایسا نہیں کیا اور اگر کوئی میعاد اپنی طرف سے مقرر کی تو عتاب ہوا تو پھر کیونکر ایک سال ایک ہفتہ سے بدل سکتا ہے میں سوچ میں ہوں کہ ان لوگوں کے دعاوی علم اور معرفت کہاں گئے ۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ میعادوں کا مقرر کرنا انسان کا کام نہیں اگر ان میں سے کسی ملہم کو دو ہفتہ میں کرامت دکھلانے کا الہام ہو گیا ہے تو بہت اچھا وہی اپنی کرامت ظاہر کرے میں اس کو قبول کروں گا۔ اور اگر میں اس کے مقابلہ سے عاجز رہا تو وہ بچے ٹھہریں گے۔ لیکن یادر ہے کہ یہ تمام دروغ گوئی اور فضول گوئی ہے اصل بات یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے ان کے دلوں کو سخت کر دیا اور ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اس لئے وہ نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں ۔منصفو! سوچو کہ جو شخص ملہم ہوتا ہے کیا وہ اپنی طرف سے کچھ کہ سکتا ہے پھر کیونکر میں اس میعاد کو بدل سکتا ہوں جس پر خدائے تعالیٰ نے مجھ کو ان کے مقابل پر اطلاع دی ہاں اگر وہ خود بدل دے تو اس کا اختیار ہے انسان کا