نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 413 of 598

نشانِ آسمانی — Page 413

روحانی خزائن جلد۴ ۴۱۳ نشان آسمانی یعنی یہ عاجز ہمیشہ نیک نامی اور دینداری کے ساتھ عمر بسر کرتا رہا ہے اور دروغ و افتراء جو بد معاشوں اور اوباشوں کا کام ہے بھی اس سے ظہور میں نہیں آیا۔ اور اگر میرے مخدوم مولوی محمد شاہ صاحب آج زندہ ہوتے تو وہ بھی میرے صلاح و تقویٰ کی گواہی دیتے علاوہ اس کے ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ مجھے مرزا صاحب کے معاملہ میں ناحق کا جھوٹ بولنے اور افتر ا کرنے سے بجر لعنت خلق و خالق اور کیا حاصل تھا۔ ایک عظیم الشان خاندان اسلام سے میرا قدیمی تعلق دوستی و برادری ہے یعنی خاندان مولوی محمد حسن صاحب رئیس لود یا نہ پس جس حالت میں مولوی صاحب مرزا صاحب سے کنارہ کر گئے اور ایک جہان ان کو کافر کافر کہنے لگا تو مجھے کیا حاصل تھا کہ میں مرزا صاحب کی طرف رجوع کر کے اپنا دین بھی برباد کرتا اور اپنی دنیا بھی اور اپنے معزز بھائیوں کو چھوڑتا اور اپنی قوم سے بھی علیحدہ ہوتا سو جس چیز نے مجھے مرزا صاحب کی طرف رجوع کیا اور خلقت کے لعن وطعن کو میں نے اپنے پر گوارا کر لیا اور اپنے قدیم مخدوم کو ناراض کیا وہ مرزا صاحب کی سچائی ہے ﴿۲۷﴾ جو گلاب شاہ کی پیشگوئی سے مجھ پر کھل گئی اور پھر میں کہتا ہوں کہ میرے چال چلن کی حضرت مولوی محمد حسن صاحب سے قسم دے کر تفتیش کرنی چاہئے میرے خیال میں وہ متقیوں کی اولاد اور نجیب و شریف اور اہل علم اور باکمال مردوں کی ذریت ہیں وہ میرے حال سے واقف اور میں ان کی خاندانی شرافت اور نجابت سے واقف ہوں اور ان کے والد بزرگوار کے وقت سے میری ان سے ملاقات ہے یہ سب میں نے محض اللہ لکھا ہے کیونکہ گمراہی کی ایک آگ بھڑک رہی ہے۔ اگر ایک شخص بھی میری اس گواہی سے راہ راست پر آجاوے تو انشاء اللہ مجھے اس کا اجر ملے گا۔ میں بڑھا ہو گیا اور اب موت کے دن بہت قریب ہیں کیا تعجب کہ رب کریم نکتہ نواز اس نیک مرد کی طرح جس کا اس نے ذکر خیر اپنے پاک کلام میں لکھا ہے۔ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ بَنِي إِسْرَاوِيْلَ میرے پر صرف اس قدر عمل صالح سے فضل کر دیوے اور وہ غفور ورحیم ہے۔اب میں نے جو کہنا تھا کہہ چکا اور اس اشتہار کوختم کرتا ہوں۔ گر نیامد بگوش رغبت کس بر رسولاں بلاغ باشد و بس الاحقاف : ال