نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 397 of 598

نشانِ آسمانی — Page 397

روحانی خزائن جلد۴ ۳۹۷ نشان آسمانی یعنی اس تشویش اور فتنہ کے زمانہ میں جو تیرھویں صدی کا زمانہ ہے غم نہیں کرنا چاہئے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ وصل یار کی خوشی بھی ان فتنوں کے ساتھ اور ان کے درمیان ہے مطلب یہ کہ جب تیرھویں صدی کے یہ تمام فتنے کمال کو پہنچ جائیں گے تو وصل یار کی خوشی اخیر صدی میں ظاہر ہوگی یعنی خدائے تعالیٰ رحمت کے ساتھ توجہ کرے گا۔ چوں زمستان بے چمن بگذشت شمس خوش بہار مے بینم یعنی جب کہ زمستان بے چمن مراد یہ ہے کہ جب تیرھویں صدی کا موسم خزاں گذر جائے گا تو چودھویں صدی کے سر پر آفتاب بہار نکلے گا یعنی مجدد وقت ظہور کرے گا ۔ دور او چول شود تمام بکام پسرش یادگار می بینم یعنی جب اس کا زمانہ کامیابی کے ساتھ گذر جائے گا تو اس کے نمونہ پر اس کا لڑکا یادگار رہ جائے گا یعنی مقدر یوں ہے کہ خدائے تعالیٰ اس کو ایک لڑکا پارسا دے گا جو اسی کے نمونہ پر ہوگا اور اُسی کے رنگ سے رنگین ہو جائے گا اور وہ اس کے بعد اس کا یادگار ہوگا یہ در حقیقت اس عاجز کی اس پیشگوئی کے مطابق ہے جو ایک لڑکے کے بارے میں کی گئی ہے ۔ بندگانِ جناب حضرت او سر بسر تاج دار می بینم یعنی یہ بھی مقدر ہے کہ بالآخر امرا اور ملوک اس کے معتقد خاص ہو جائیں گے اور اس کی نسبت ارادت پیدا کرنا بعضوں کے لئے دنیوی اقبال اور تاجداری کا موجب ہوگا ۔ یہ اس پیشگوئی کے مطابق ہے جو اس عاجز کو خدائے تعالی کی طرف سے ملی کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو مخاطب کر کے کہا کہ میں تجھ پر اس قد رفضل کروں گا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اور ایک جگہ فرمایا کہ تیرے دوستوں اور محبوں پر بھی احسان کیا جائے گا۔