نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 394 of 598

نشانِ آسمانی — Page 394

روحانی خزائن جلد۴ ۳۹۴ نشان آسمانی اکتالیس برس ان ابیات کے چھپنے پر بھی گزر گئے اور یہ ابیات رسالہ اربعین فی احوال المهدتین کے ساتھ شامل ہیں جو مطبوعہ تاریخ مذکورہ بالا ہے اور جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ آئے ہیں۔ ان بیتوں کو رسالہ اربعین سے شامل کرنا اسی غرض سے ہے کہ تا کسی طرح سید احمد صاحب کا منجملہ مہدیوں کے ایک مہدی ہونا ثابت کیا جائے اگر چہ اس میں کچھ شک نہیں کہ احادیث میں جہاں جہاں مہدی کے نام سے کسی آنے والے کی نسبت پیشگوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی درج ہے اسکے سمجھنے میں لوگوں نے بڑے بڑے دھو کے کھائے ہیں اور غلط فہمی کی وجہ سے عام طور پر یہی سمجھا گیا ہے کہ ہر ایک مہدی کے لفظ سے مراد محمد بن عبد اللہ ہے جس کی نسبت بعض احادیث پائی جاتی ہیں لیکن نظر غور سے معلوم ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کئی مہدیوں کی خبر دیتے ہیں منجملہ ان کے وہ مہدی بھی ہے جس کا نام حدیث میں سلطان مشرق رکھا گیا ہے جس کا ظہور ممالک مشرقیہ ہندوستان وغیرہ سے اور اصل وطن فارس سے ہونا ضرور ہے درحقیقت اسی کی تعریف میں یہ حدیث ہے کہ اگر ایمان ثریا سے متعلق یا ریا پر ہوتا تب بھی وہ مرد و ہیں سے اس کو لے لیتا اور اسی کی یہ نشانی بھی لکھی ہے کہ وہ کھیتی کرنے والا ہوگا۔ غرض یہ 10 بات بالکل ثابت شدہ اور یقینی ہے کہ صحاح ستہ میں کئی مہدیوں کا ذکر ہے اور ان میں سے ایک وہ بھی ہے جس کا ممالک مشرقیہ سے ظہور لکھا ہے مگر بعض لوگوں نے روایات کے اختلاط کی وجہ سے دھوکا کھایا ہے لیکن بڑی توجہ دلانے والی یہ بات ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہدی کے ظہور کا زمانہ وہی زمانہ قرار دیا ہے جس میں ہم ہیں اور چودھویں صدی کا اس کو مجدد قرار دیا ہے جیسا کہ ہم آئندہ انشاء اللہ بیان کریں گے بہر حال اگر چہ یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ چودھویں صدی کے سر پر ملک ہند میں ایک عظیم الشان مجدد پیدا ہونے والا ہے لیکن یہ سراسر حکم ہے کہ سید احمد صاحب کو اس کا مصداق ٹھہرایا جائے کیوں کہ