نسیمِ دعوت — Page 465
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۶۳ نسیم دعوت طیار کرتے ہیں اور یہ ذرات خود بخود کچھ بھی کام نہیں کرتے بلکہ خدا کی آواز سنتے ہیں اور اس کی مرضی کے موافق کام کرتے ہیں اسی لئے وہ اس کے فرشتے کہلاتے ہیں اور کئی قسم کے فرشتے ہوتے ہیں یہ تو زمین کے فرشتے ہیں ۔ مگر آسمان کے فرشتے آسمان سے اپنا اثر ڈالتے ہیں جیسا کہ سورج کی گرمی بھی خدا کا ایک فرشتہ ہے جو پھلوں کا پکانا اور دوسرے کام کرتا ہے اور ہوا میں بھی خدا کے فرشتے ہیں جو بادلوں کو اکٹھے کرتے اور کھیتوں کو مختلف اثر اپنے پہنچاتے ہیں اور پھر ان کے اوپر اور بھی فرشتے ہیں جو ان میں تاثیر ڈالتے ہیں۔ علوم طبعی اس بات کے گواہ ہیں کہ فرشتوں کا وجود ضروری ہے اور ان فرشتوں کو ہم بچشم خود دیکھ رہے ہیں ۔ اب بقول آریہ صاحبان ویدان فرشتوں کا منکر ہے۔ پس اس طور سے وہ اس طبعی سلسلہ سے انکاری اور دہر یہ مذہب کی بنیاد ڈالتا ہے کیا یہ امر بدیہی اور مشہود و محسوس نہیں کہ ہر ایک ذرہ ذرات اجسام میں سے ایک کام میں مشغول ہے۔ یہاں تک کہ شہد کی مکھیاں بھی خدا کی وحی سے ایک کام کر رہی ہیں ۔ پس ویدا اگر اس سلسلہ سے منکر ہے تو پھر اس کی خیر نہیں ۔ اس صورت میں وہ تو دہر یہ مذہب کا حامی ہوگا۔ اگر یہی ویڈوڈیا کا نمونہ ہے تو شاباش خوب نمونہ پیش کیا۔ (۵) ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ شفاعت پر بھروسہ شرک ہے۔ الجواب : قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ الا باذنه یعنی: مبنی خدا کے اذن کے سوا کوئی شفاعت نہیں ہو سکتی ۔ قرآن شر ہو سکتی ۔ قرآن شریف کی رُو سے شفاعت کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص اپنے بھائی کے لئے دُعا کرے کہ وہ مطلب اس کو حاصل ہو 91 جائے ۔ یا کوئی بلائل جائے۔ پس قرآن شریف کا حکم ہے کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کے حضور میں زیادہ جھکا ہوا ہے وہ اپنے کمزور بھائی کے لئے دعا کرے کہ اس کو وہ مرتبہ حاصل ہو یہی حقیقت شفاعت ہے۔ سو ہم اپنے بھائیوں کے لئے بیشک دعا کرتے ہیں کہ خدا ان کو قوت دے اور ان کی بلا دور کرے اور یہ ایک ہمدردی کی قسم ہے۔ پس اگر وید نے اس ہمدردی کو نہیں سکھلایا اور وید کی رو سے ایک بھائی دوسرے کے لئے دُعا نہیں کر سکتا تو یہ بات وید کے لئے قابل تعریف نہیں بلکہ ایک البقرة : ۲۵۶