نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 460 of 566

نسیمِ دعوت — Page 460

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۵۸ نسیم دعوت منتخب کر کے اسلام پر پیش کرے اور پھر انسانیت اور تحمل سے اس کا جواب سنے۔ ورنہ ایسے اعتراضات سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ معترض حقیقت سے بے خبر اور دل اس کا تعصب سے پُر اور غرض اس کی محض تحقیر ہے۔ دین ایک علم ہے اور اپنے اندر اسرار رکھتا ہے۔ کیا لازم ہے کہ اس طرح پر افترا کے طور پر اعتراض کئے جائیں ورنہ مسلمان بوجہ اولیٰ کہہ سکتے ہیں کہ جن خداؤں کو وید نے پیش کیا ہے وہ تو یہی ہیں کہ سورج، چاند ، آگ، ۸۷ پانی، زمین وغیرہ مخلوق چیزیں یہ سب محدود اور مخلوق اور بے جان ہیں اس لئے آریہ صاحبوں کا پر میشر نہ صرف محدود بلکہ بے جان چیز ہے اسی لئے ان کی آواز نہیں سن سکتا اور نہ جواب دے سکتا ہے۔ پھر جس پر میشر نے کچھ پیدا ہی نہیں کیا اس کا محدود ہونا تو بہر حال ماننا پڑے گا کیونکہ اس طرح پر سمجھ لو کہ روحوں اور پر مانو اور پر میشر سے گویا ایک شہر آباد ہے۔ جس کے ایک محلہ کو حاصل ہیں۔ اسی وجہ سے وید میں جابجا ان کی اسنت اور مہما کی گئی اور ان سے مرادیں مانگی گئیں ۔ پس خدا تعالیٰ نے استعارہ کے طور پر سمجھایا کہ یہ چار دیوتا جن کو بت پرست اپنا معبود قرار دیتے ہیں یہ مخدوم نہیں ہیں بلکہ یہ چاروں خادم ہیں اور خدا تعالیٰ کے عرش کو اٹھا رہے ہیں یعنی خادموں کی طرح ان الہی صفات کو اپنے آئینوں میں ظاہر کر رہے ہیں اور عرش سے مراد لوازم صفات تخت نشینی ہیں جیسا کہ ابھی میں نے بیان کر دیا ہے۔ ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ رب کے معنے دیوتا ہے۔ پس قرآن شریف پہلے اسی سورۃ سے شروع ہوا ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ یعنی وہ تمام مہما اور استت اُس خدا کی چاہیے جو تمام عالموں کا دیوتا ہے۔ وہی ہے جو رب العلمین ہے اور رحمن العَلَمِيْن ہے اور رحیم العلمین ہے۔ اور مالک جزاء العالمین ہے۔ اس کے برابر اور کوئی دیوتا نہیں کیونکہ قرآن شریف کے زمانہ میں دیوتا پرستی بہت شائع تھی اور یونانی ہر ایک دیوتے کا نام رب النوع رکھتے تھے اور رب النوع کا لفظ آریہ ورت میں دیوتا کے نام سے موسوم تھا اس لئے پہلے خدا کا کلام ان جھوٹے دیوتاؤں کی طرف ہی متوجہ ہوا جیسا کہ اس نے فرمایا۔ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمین کے یعنی وہ جو سب عالموں کا دیوتا ہے نہ صرف ایک یادو عالم کا اس کی پرستش اور حمدوثنا چاہیے۔ دوسروں کی مہما اور ا ستت کرنا غلطی ہے۔ اس بقیه حاشیه الفاتحة :٢