نسیمِ دعوت — Page 450
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۴۸ نسیم دعوت نشان دیکھے۔ اور بار بار کے تجربہ سے اس کی جبروت اور قدرت پر یقین کرے یا ایسے شخص کی صحبت میں رہے جو اس درجہ تک پہنچ گیا ہے۔ اب میں کہتا ہوں کہ یہ درجہ معرفت کا نہ کسی عیسائی صاحب کو نصیب ہے اور نہ کسی آریہ صاحب کو اور ان کے ہاتھ میں محض قصے ہیں اور زندہ خدا کی زندہ تجلی کے نظارہ سے وہ سب بے نصیب ہیں۔ ہمارا زندہ حتی و قیوم خدا ہم سے انسان کی طرح باتیں کرتا ہے۔ ہم ایک بات پوچھتے اور دعا کرتے ہیں تو وہ قدرت کے بھرے ہوئے الفاظ کے ساتھ جواب دیتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ ہزار مرتبہ تک بھی جاری رہے تب بھی وہ جواب دینے سے اعراض نہیں کرتا۔ وہ اپنے کلام میں عجیب در عجیب غیب کی باتیں ظاہر کرتا ہے اور خارق عادت قدرتوں کے نظارے دکھلاتا ہے یہاں تک کہ وہ یقین کرا دیتا ہے کہ وہ وہی ہے جس کو خدا کہنا چاہیے۔ دعائیں قبول کرتا ہے اور قبول کرنے کی اطلاع دیتا ہے۔ وہ بڑی بڑی مشکلات حل کرتا ہے اور جو مُردوں کی طرح بیمار ہوں ان کو بھی کثرتِ دعا سے زندہ کر دیتا ہے اور یہ سب ارادے اپنے قبل از وقت اپنے کلام سے بتلا دیتا ہے۔ خدا وہی خدا ہے جو ہمارا خدا ہے وہ اپنے کلام سے جو آئندہ کے واقعات پر مشتمل ہوتا ہے ہم پر ثابت کرتا ہے که زمین و آسمان کا وہی خدا ہے۔ وہی ہے جس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے طاعون کی موت سے بچاؤں گا اور نیز ان سب کو جو تیرے گھر میں نیکی اور پر ہیز گاری کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں بچاؤں گا۔ اس زمانہ میں کون ہے جس نے میرے سوا ایسا الہام شائع کیا اور اپنے نفس اور اپنی بیوی اور اپنے بچوں اور دوسرے نیک انسانوں نبوت کے زمانہ کے بعد کچھ مدت تک پیشگوئیاں اسی نبی کی جو دنیا سے گذر گیا بطور معجزات کے دلوں کو تسلی دیتی رہتی ہیں جو دوسری نسل کے سامنے پوری ہوتی رہتی ہیں مگر یہ نظارہ بہت مدت تک نہیں رہتا اور نرے قصے انسان کو سچا پر ہیز گار نہیں بنا سکتے گو صرف لکیر پر چلنے والا قومی تعصب میں بڑھ سکتا ہے اور شریر انسان کی طرح زبان دراز ہو سکتا ہے مگر کچی پاکیزگی جو اپنے پھل ظاہر کرے کبھی اس کے دل میں نہیں آسکتی۔ منہ