نسیمِ دعوت — Page 446
روحانی خزائن جلد ۱۹ م م م نسیم دعوت میں آکر نکاح کرا جاتا ہے تو کیا خدا کو اختیار نہیں۔ اعتراض تو اس صورت میں تھا کہ خدا کسی غیر کی عورت سے جو اس کے نکاح میں ہے اور اس نے طلاق نہیں دی جبراً کسی پیغمبر کو دیدے مگر طلاق کے بعد اگر خدا کے حکم سے طرفین کی رضا مندی سے نکاح ہو تو اس پر کیا اعتراض ہے ۔ اور اگر آریہ صاحبوں کے نزدیک اپنی حین حیات میں اپنی بیوی کو کسی دوسرے سے ہم بستر کرانا اس صورت سے برابر ہے کہ جب انسان اپنی عورت کو بوجہ اس کی ناپاکی یا بد کاری یا کسی اور وجہ سے طلاق دیتا ہے تو اس کا فیصلہ بہت سہل ہے کیونکہ اس ملک میں ایسے مسلمان اور دوسرے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں جو اپنی عورتوں سے بوجہ نا موافقت عاجز آکر ان کو طلاق دے دیتے ہیں اور پھر وہ عورتیں اس عضو کی طرح ہو جاتی ہیں جو کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے اور ان سے کچھ تعلق نہیں رہتا اور اگر آریہ صاحبان چاہیں تو ہم ایسے مسلمانوں بلکہ ہندوؤں کے ناموں کی بھی بہت سی فہرستیں دے سکتے ہیں جنہوں نے ان مشکلات کی وجہ سے نا پاک وضع عورتوں کو طلاق دے کر بقیه حاشیه روحوں کے انادی ہونے کی حالت میں ہندوؤں کا پر میشر ہرگز پر میشر نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ جو محض دوسروں کے سہارے سے اپنی خدائی چلا رہا ہے اس کی خدائی کی خیر نہیں وہ آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں۔ اور یہ کہنا کہ تناسخ کا چکر جو کئی ارب سے بموجب آریہ صاحبوں کے عقیدہ کے جاری ہے اس کا باعث گذشتہ پیدائشوں کے گناہ ہیں یہ خیال طبعی علم کے تجربہ کے ذریعہ سے نہایت فضول اور لچر اور باطل ثابت ہوتا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ روحوں کی پیدائش میں بھی خدا تعالیٰ کا ایک نظام ہے جو کبھی پیش و پس نہیں ہوتا مثلاً برسات کے دنوں ہزار ہا کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں اور گرمی کے دنوں میں بکثرت لکھیاں پیدا ہو جاتی ہیں تو کیا انہی دنوں میں ہمیشہ دنیا میں پاپ زیادہ ہوتے ہیں اور نہایت سخت گناہ کی وجہ سے انسانوں کو لکھیاں اور برسات کے کیڑے بنایا جاتا ہے اس طرح کے ہزار ہا دلائل ہیں جن سے تاریخ باطل ہوتا ہے چاہیے کہ آریہ صاحبان بغوران تمام باتوں کو سوچیں۔ منہ