نسیمِ دعوت — Page 437
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۳۵ نسیم دعوت کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی لیکن اگر میں ذیا بیٹس کے لئے افیون کھانے کی عادت کرلوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔ ☆ پس اس طرح جب میں نے خدا پر توکل کی تو خدا نے مجھے ان خبیث چیزوں کا محتاج نہیں کیا اور بار ہا جب مجھے غلبہ مرض کا ہوا تو خدا نے فرمایا کہ دیکھ میں نے تجھے شفا دے دی تب اسی وقت مجھے آرام ہو گیا۔ انہیں باتوں سے میں جانتا ہوں کہ ہما را خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے ۔ جھوٹے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ نہ اُس نے رُوح پیدا کی اور نہ ذرات اجسام ۔ وہ خدا سے غافل ہیں۔ ہم ہر روز اُس کی نئی پیدائش دیکھتے ہیں اور ترقیات سے نئی نئی روح وہ ہم میں پھونکتا ہے۔ اگر وہ نیست سے ہست کرنے والا نہ ہوتا تو ہم تو زندہ ہی مر جاتے ۔ عجیب ہے وہ خدا جو ہمارا خدا ہے۔ کون ہے جو اس کی مانند ہے اور عجیب ہیں اُس کے کام ۔ کون ہے جس کے کام اس کی مانند ہیں۔ وہ قادر مطلق ہے ہاں بعض وقت حکمت اس کی ایک کام کرنے سے اُسے روکتی ہے۔ چنانچہ مثال کے طور پر ظاہر کرتا ہوں کہ مجھے دو ﴿۲۸﴾ مرض دامنگیر ہیں ۔ ایک جسم کے اوپر کے حصہ میں کہ سردرد اور دوران سر اور دوران خون کم ہو کر ہاتھ پیر سرد ہو جانا نبض کم ہو جانا ۔ دوسرے جسم کے نیچے کے حصہ میں کہ پیشاب کثرت سے آنا اور اکثر دست آتے رہنا۔ یہ دونوں بیماریاں قریباً بین برس سے ہیں۔ کبھی دعا سے ایسی رخصت ہو جاتی ہے کہ گویا دور ہو گئیں مگر پھر شروع ہو جاتی ہیں ۔ ایک دفعہ میں نے دعا کی کہ یہ بیماریاں بالکل دور کر دی جائیں تو جواب ملا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ حیا انسان جب تک خود خدا کی تجلی سے اور خدا کے وسیلہ سے اس کے وجود پر اطلاع نہ پاوے تب تک وہ خدا کی پرستش نہیں کرتا بلکہ اپنے خیال کی پرستش کرتا ہے محض خیال کی پرستش کرنا اندرونی گندگی کو صاف نہیں کرتا ۔ ایسے لوگ تو پر میشر کے خود پر میشر بنتے ہیں کہ خود اس کا پتہ آپ لگاتے ہیں۔ منہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” ہیں “ ہونا چاہیے۔(ناشر)