نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 436 of 566

نسیمِ دعوت — Page 436

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۳۴ نیم دعوت پیدا کرتا ہے جن سے اب یورپ بھی دن بدن واقف ہوتا جاتا ہے آخر جیسے بہت سے تجارب کے بعد طلاق کا قانون پاس ہو گیا ہے اسی طرح کسی دن دیکھ لو گے کہ تنگ آکر اسلامی پردہ کے مشابہ یورپ میں بھی کوئی قانون شائع ہوگا ورنہ انجام یہ ہوگا کہ چار پائیوں کی طرح عورتیں اور مرد ہو جائیں گے اور مشکل ہوگا کہ یہ شناخت کیا جائے کہ فلاں شخص کس کا بیٹا ہے اور وہ لوگ کیونکر پاک دل ہوں۔ پاک دل تو وہ ہوتے ہیں جن کی آنکھوں کے آگے ہر وقت خدا ر ہتا ہے اور نہ صرف ایک موت اُن کو یاد ہوتی ہے بلکہ وہ ہر وقت عظمتِ الہی کے اثر سے مرتے رہتے ہیں مگر یہ حالت شراب خوری میں کیونکر پیدا ہو۔ شراب اور خدا ترسی ایک وجود میں اکٹھی نہیں ہو سکتی ۔ خونِ مسیح کی دلیری اور شراب کا جوش تقویٰ کی بیخ کنی میں کامیاب ہو گیا ہے۔ ہم اندازہ نہیں لگا سکتے کہ آیا کفارہ کے مسئلہ نے یہ خرابیاں زیادہ پیدا کی ہیں یا شراب نے۔ اگر اسلام کی طرح پردہ کی رسم ہوتی تو پھر بھی کچھ پردہ رہتا۔ مگر یورپ تو (۲۷) پردہ کی رسم کا دشمن ہے۔ ہم یورپ کے اس فلسفہ کوسمجھ نہیں سکتے اگر وہ اس اصرار سے باز نہیں آتے تو شوق سے شراب پیا کریں کہ اس کے ذریعہ سے کفارہ کے فوائد بہت ظاہر ہوتے ہیں کیونکہ مسیح کے خون کے سہارے پر جو لوگ گناہ کرتے ہیں شراب کے وسیلہ سے ان کی میزان بڑھتی ہے۔ ہم اس بحث کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتے کیونکہ فطرت کا تقاضا الگ الگ ہے۔ ہمیں تو ناپاک چیزوں کے استعمال سے کسی سخت مرض کے وقت بھی ڈر لگتا ہے ۔ چہ جائیکہ پانی کی جگہ بھی شراب پی جائے ۔ مجھے اس وقت ایک اپنا سر گذشت قصہ یاد آیا ہے اور وہ یہ کہ مجھے کئی سال سے ذیا بیطس کی بیماری ہے۔ پندرہ بیس مرتبہ روز پیشاب آتا ہے اور بعض وقت سوسود فعہ ایک ایک دن میں پیشاب آیا ہے اور بوجہ اس کے کہ پیشاب میں شکر ہے۔ کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے اور کثرت پیشاب سے بہت ضعف تک نوبت پہنچتی ہے۔ ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیا بیطس