نسیمِ دعوت — Page 435
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۳۳ نسیم دعوت اس کے بیان کرنے کی مجھے ضرورت نہیں بالخصوص جب سے اس نسخہ کی دوسری جو شراب بھی اس کے ساتھ ملحق ہو گئی ہے تب سے تو یہ نسخہ ایک خطر ناک اور بھڑ کنے والا مادہ بن گیا ہے اس کی تائید میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے ہر ایک سچے عیسائی کا یہ فرض ہے کہ وہ بھی شراب پیوے اور اپنے مرشد کی پیروی کرے ۔ غرض اس نسخہ کے استعمال سے ان ملکوں کی عملی پاکیزگی پر جو زلزلہ آیا ہے اور جو کچھ تباہی قوم میں پھیلی ہے اس کے ذکر کرنے سے بھی بدن کا نپتا ہے۔ افسوس کہ شراب اور کفارہ دونوں مل کر ایک ایسا تیز اور جلد مشتعل ہونے والا بارود ہو گیا ہے جس کے آگے تقومی اور طہارت باطنی یوں اُڑ جاتی ہے جیسے سخت آندھی کے آگے خس و خاشاک۔ اور اس میں اندرونی پاکیزگی کے اُڑانے کے لئے اس توپ سے بھی زیادہ قوت ہے جو دس میل سے مار کر سکتی ہے کیونکہ تو ہیں تو اکثر دو تین میل تک فیر کر سکتی ہیں مگر ان تو پوں کی زد تو دس ہزار میل ﴿۲۲﴾ سے بھی زیادہ تک پہنچ گئی ہے۔ یورپ کی شراب کی گرم بازاری نے اس ملک کو بھی شریک کر لیا ہے۔ زیادہ بیان کی حاجت نہیں۔ پھر علاوہ اس کے عورتوں کی عام بے پردگی نے اس توپ کا زن و مرد کو نشانہ بنا دیا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ پاک دل رکھنے والے اور خدا سے ڈرنے والے دنیا میں بہت کم لوگ ہوتے ہیں۔ اور اکثر انسان اُس کتے سے مشابہ ہیں جو دودھ یا کسی اور عمدہ چیز کو دیکھ کر اس میں منہ ڈالنے سے صبر نہیں کر سکتا۔ نفس غالب اور شہوت طالب اور آنکھیں اندھی ہوتی ہیں اور شراب ایسے جذبات کو اور بھی بانس پر چڑھا دیتی ہے تب خدائے تعالیٰ کا خوف دل میں سے جاتا رہتا ہے اور جوانی کے دن اور جذبات کے ایام اور نیز شرابوں کے جام اندھا کر دیتے ہیں۔ اس صورت میں جوان مردوں اور جوان عورتوں کا اس طور سے بلا تکلف ملاپ ہونا گویا کہ وہ میاں بیوی ہیں ایسی قابل شرم خرابیاں