نسیمِ دعوت — Page 385
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۸۳ نسیم دعوت اسی طرح ان کے نزدیک جیو یعنی روح اور پر مانو یعنی ذرات اجسام بھی اپنے وجود اور ہستی میں کسی خالق کی طرف محتاج نہیں بلکہ اپنی تمام قوتوں کے ساتھ قدیم اور انادی ہیں اور اپنے اپنے وجود کے آپ ہی خدا ہیں اب ظاہر ہے کہ اس عقیدہ کے رُو سے نہ خدا کی توحید باقی رہتی ہے نہ اس کی عظمت میں سے کچھ باقی رہ سکتا ہے بلکہ اس صورت میں اس کی شناخت پر کوئی دلیل بھی قائم نہیں ہو سکتی کیونکہ صانع اپنے مصنوعات سے ہی شناخت ہوتا ہے پس جبکہ روحوں اور جسموں کی تمام قوتیں خود بخود اور قدیم ہیں تو پھر خدا کے وجود پر کونسی دلیل قائم ہوئی اور عقل انسانی نے کیونکر سمجھ لیا کہ وہ موجود ہے۔ یہ کہنا بیجا ہے کہ وہ ان ذرات کو جوڑتا ہے اور روح اور جسم کو تعلق بخشتا ہے اور اسی سے وہ پہچانا جاتا ہے کیونکہ صرف جوڑنے سے کوئی شخص خدا نہیں کہلا سکتا وجہ یہ ہے کہ اگر صرف جوڑنے سے کوئی خدا کہلا سکتا ہے تو اس صورت میں تو تمام نجار اور معمار خدا کہلا سکتے ہیں کیونکہ جوڑنے کا کام تو انہیں بھی آتا ہے۔ دیکھو حال کے زمانہ میں کیسی کیسی عمدہ صنعتیں یورپ کے صناعوں نے ایجاد کی ہیں یہاں تک کہ مادرزاد اندھوں کے دیکھنے کے لئے بھی ایک آلہ نکالا ہے۔ اور آئے دن کوئی نہ کوئی نئی صنعت نکال لیتے ہیں یہاں تک کہ ایک قسم کے مردہ جانوروں میں روح ڈالنے کا طریق بھی انہوں نے ایجاد کیا ہے یعنی جب کوئی جانور ایسے طور سے مر جائے جو اس کے اعضائے رئیسہ کو صدمہ نہ پہنچے اور اس کی موت پر کچھ زیادہ عرصہ بھی نہ گزرے تو وہ اس کو اپنی حکمت عملی سے دوبارہ زندہ کرتے ہیں گو حقیقی طور پر وہ زندگی نہیں ہوتی تاہم انجو بہ نمائی میں کیا شک ہے ۔ امریکہ میں آج کل یہ عمل کثرت سے پھیل رہا ہے مگر کیا ایسی صنعتوں سے وہ خدا کہلا سکتے ہیں؟ پس اصل بات یہ ہے کہ خدا کی قدرت میں جو ایک خصوصیت ہے جس سے وہ خدا کہلاتا ہے وہ روحانی اور جسمانی قوتوں کے پیدا کرنے کی خاصیت ہے۔ مثلاً جانداروں کے جسم کو جو اُس نے آنکھیں عطا کی ہیں اس کام میں اس کا اصل کمال یہ نہیں ہے کہ اُس نے یہ آنکھیں بنا ئیں بلکہ کمال یہ ہے کہ اُس نے ذرات جسم میں پہلے سے ایک پوشیدہ طاقتیں پیدا کر رکھی تھیں ۔ جن میں بینائی کا نور