نسیمِ دعوت — Page 375
روحانی خزائن جلد ۱۹ نسیم دعوت ہوش مند انسان اس بات کو جلد سمجھ سکتا ہے کہ اگر تبدیل مذہب کے لئے عالم فاضل ہونا ضروری ہے تو ہندوستان کے کروڑہا ہندو عوام الناس جو کچھ علم نہیں رکھتے اور مختلف فرقوں پر تقسیم شدہ ہیں وہ آریہ سماج میں داخل ہونے کے لائق نہیں ہو سکتے جب تک سب کے سب وید دان نہ ہوں اور شاستروں کو سبقاً سبقاً نہ پڑھ لیں۔ پس سنو اور خوب کان کھول کر سنو کہ تبدیل مذہب کے لئے تمام جزئیات کی تفتیش کچھ ضروری نہیں بلکہ سچائی کی تلاش کرنے والے کے لئے مذاہب موجودہ کا باہم مقابلہ کرنے کے وقت اور پھر ان میں سے سچا مذ ہب شناخت کرنے کے لئے صرف تین باتوں کا دیکھنا ضروری ہے۔(۱) اول یہ کہ اس مذہب میں خدا کی نسبت کیا تعلیم ہے یعنی اس کی توحید اور قدرت اور علم اور کمال اور عظمت اور سزا اور رحمت اور دیگر لوازم اور خواص الوہیت کی نسبت کیا بیان ہے کیونکہ اگر کوئی مذہب خدا کو واحد لاشریک قرار نہیں دیتا اور آسمان کے اجرام یا زمین کے عناصر یا کسی انسان یا اور چیزوں کو خدا جانتا ہے یا خدا کے برابر ٹھہراتا ہے اور ایسی پرستشوں سے منع نہیں کرتا یا خدا کی قدرت کو ناقص خیال کرتا ہے اور جہاں تک امکانِ قدرت ہے وہاں تک قدرت کے سلسلہ کو نہیں پہنچاتا یا اس کے علم کو نا تمام جانتا ہے یا اس کی قدیم عظمت کے برخلاف کوئی تعلیم دیتا ہے یا سزا اور رحمت کے قانون میں افراط یا تفریط کی راہ لیتا ہے یا اس کی رحمت عامہ جیسا کہ جسمانی طور پر محیط عالم ہے اس کے برخلاف کسی خاص قوم سے خدا کا خاص تعلق اور روحانی نعمت کے وسائل کو مخصوص رکھتا ہے یا الوہیت کے خواص میں سے کسی خاصہ کے برخلاف بیان کرتا ہے تو وہ مذہب خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ (۲) دوسرے طالب حق کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اس مذہب میں جس کو وہ پسند کرے اس کے نفس کے بارے میں اور ایسا ہی عام طور پر انسانی چال چلن کے بارے میں کیا تعلیم ہے۔ کیا کوئی ایسی تعلیم تو نہیں کہ جو انسانی حقوق کے باہمی رشتہ کو توڑتی ہو یا انسان کو دیوٹی کی طرف کھینچتی ہو یا د یوٹی امور کو مستلزم ہو اور فطرتی حیا اور شرم کی مخالف ہو اور نہ کوئی ایسی تعلیم ہو کہ جو خدا کے عام