نسیمِ دعوت — Page 368
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۶۶ نیم دعوت منہ سے مت نکالو کہ ایسی بات حکمت اور معرفت سے خالی ہوگی اور سفلہ اور کمینہ لوگوں اور اوباشوں کی طرح نہ چاہو کہ دشمن کو خواہ نخواہ ہتک آمیز اور تمسخر کا جواب دیا جاوے بلکہ دل کی راستی سے سچا اور پر حکمت جواب دو تا تم آسمانی اسرار کے وارث ٹھہرو۔ اس جگہ یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ قادیان کے آریوں کا یہ حملہ جو میرے پر کیا گیا ہے یہ ایک ناگہانی ہے ان دنوں میں کوئی تحریر میری طرف سے شائع نہیں ہوئی اور نہ میرے قلم سے اور نہ میری تعلیم سے اور نہ میری تحریک سے کسی نے کوئی اشتہار شائع کیا۔ پس خواہ نخواہ مجھے نشانہ بنانا اور مجھے گالیاں دینا اور میرے سید و مولیٰ جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت توہین و تحقیر کے الفاظ لکھنا اور اس طرح پر مجھے دوہرے طور پر دُکھ دینا میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس قدر نفسانی جوش کیوں دکھلایا گیا۔ بعض قادیان کے آریہ جو میرے پاس آتے تھے۔ بارہا میں نے ان کو نصیحت دی کہ زبان کی چالاکیوں کا نام مذہب نہیں ہے مذہب ایک پاک کیفیت ہے جو ان لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کو پہچان لیتے ہیں اور میں نے ان کو بار ہا یہ بھی کہا کہ دیکھو طاعون کا زمانہ ہے اور دنیا کی تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ جب یہ کسی ملک میں بڑے زور سے بھڑکتی رہی ہے تو اس کا یہی موجب ہوتا رہا ہے کہ زمین پاپ اور گناہ سے بھر جاتی تھی اور خدا کی طرف سے جو آتا تھا اس سے انکار کیا جاتا تھا اور جب بھی کہ آسمان کے نیچے اس قسم کا کوئی بڑا گناہ ظہور میں آیا اور بیبا کی حد سے بڑھ گئی تھی یہ بلا ظہور میں آئی۔ اب بھی یہ گناہ انتہا تک پہنچ گیا ہے دنیا میں ایک عظیم الشان نبی انسانوں کی اصلاح کے لئے آیا یعنی سید نا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اور اس نے اس سچے خدا کی طرف لوگوں کو بلایا جس کو دنیا بھول گئی تھی ۔ لیکن اس زمانہ میں اُسی کامل نبی کی ایسی تو ہین اور تحقیر کی جاتی ہے جس کی نظیر کسی زمانہ میں نہیں مل سکتی پھر خدا نے چودھویں صدی کے سر پر اپنے ایک بندہ کو جو یہی لکھنے والا ہے بھیجا تا اس