نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 366 of 566

نسیمِ دعوت — Page 366

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۶۴ نسیم دعوت خدا تعالیٰ نے اپنی وحی خاص سے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اس تحریر کا جواب لکھ اور میں جواب دینے میں تیرے ساتھ ہوں ۔ تب مجھے اس مبشر وحی سے بہت خوشی پہنچی کہ جواب دینے میں میں اکیلا نہیں۔ سو میں اپنے خدا سے قوت پا کر اُٹھا اور اُس کی روح کی تائید سے میں نے اس رسالہ کو لکھا اور جیسا کہ خدا نے مجھے تائید دی میں نے یہی چاہا کہ ان تمام گالیوں کو جو میرے نبی مطاع کو اور مجھے دی گئیں نظر انداز کر کے نرمی سے جواب لکھوں اور پھر یہ کاروبار خدا تعالیٰ کے سپر د کر دوں۔ مگر قبل اس کے کہ میں اس اشتہار کا جواب لکھوں اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحتاً کہتا ہوں کہ جو کچھ اس اشتہار کے لکھنے والوں اور ان کی جماعت نے محض دل دُکھانے اور توہین کی نیت سے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اعتراضات کے پیرا یہ میں سخت الفاظ لکھے ہیں یا میری نسبت مال خور اور ٹھگ اور کا ذب اور نمک حرام کے لفظ کو استعمال میں لائے ہیں اور مجھے لوگوں کا دغا بازی سے مال کھانے والا قرار دیا ہے اور یا جو خود میری جماعت کی نسبت سؤر اور کتے اور مردار خوار اور گدھے اور بندر وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور ملیچھ ان کا نام رکھا ہے۔ ان تمام دکھ دینے والے الفاظ پر وہ صبر کریں اور میں اس جوش اور اشتعال طبع کو خوب جانتا ہوں کہ جو انسان کو اس حالت میں پیدا ہوتا ہے کہ جب کہ نہ صرف اس کو گالیاں دی جاتی ہیں بلکہ اس کے رسول اور پیشوا اور امام کو تو ہین اور تحقیر کے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے اور سخت اور غضب پیدا کرنے والے الفاظ سنائے جاتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر تم ان گالیوں اور بد زبانیوں پر صبر نہ کرو تو پھر تم میں اور دوسرے لوگوں میں کیا فرق ہوگا اور یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ تمہارے ساتھ ہوئی اور پہلے کسی سے نہیں ہوئی ہر ایک سچا سلسلہ جو دنیا میں قائم ہوا ضرور دنیا نے اس سے دشمنی کی ہے ۔ سو چونکہ تم سچائی کے وارث ہو ضرور ہے کہ تم سے بھی دشمنی کریں سو خبر دارر ہونفسانیت تم پر غالب نہ آوے، ہر ایک سختی کی برداشت کرو ہر ایک گالی کا نرمی سے جواب دو تا آسمان پر تمہارے لئے اجر