نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 550

نجم الہدیٰ — Page 146

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۴۶ نجم الهدى وقيل لا مهدى إلا عیسی و کذالک اور بعض کہتے ہیں کہ کوئی دوسرا مہدی نہیں عیسی اختلف في نزول عیسی، فالقرآن ہی مہدی ہے اور وہی آئے گا اور کوئی نہیں ہوگا اور اسی طرح اور بھی قول ہیں اور اسی طرح مسیح يشهد أنه مات ولحق الموتى، وقيل کے نزول میں اختلاف ہے پس قرآن گواہی دیتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور دوسرا أنه ينزل من السماوات العلى، وأنه حى ومامات وما فنا، وقال قوم أنه قول یہ ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوں گے اور مات كما بين الفرقان الحميد، ولا وہ زندہ ہیں مرے نہیں اور ایک قوم نے یہ کہا ہے يـخـالـفـه إلَّا العنيد ۔ وقال هؤلاء انه لا کہ وہ در حقیقت مر گیا ہے جیسا کہ قرآن فرماتا ينزل إلا على طور البروز ، وذهب إليه ہے اور اس قول کی مخالفت وہی کرے گا جوحق كثير من المعتزلة وكرام الصوفية من كے مقابل پر ناحق جھگڑتا ہے اور جولوگ اس کی أهل الرموز والذين اعتقدوا بنزوله | موت کے قائل ہیں ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ مسیح کا نزول بطور بروز کے ہوگا اور معتزلہ اور اکابر صوفیوں کا یہی مذہب ہے ۔ اور جو لوگ النزول وتفرقوا في الآراء ، فقيل إنه نزول آسمان کے قائل ہیں ان میں سے بعض | ينزل بدمشق عند منارة، ويوافى أهله کہتے ہیں کہ وہ دمشق کے منارہ کے پاس نازل على غرارة، وقيل ينزل ببعض معسکر ہوگا اور بعض اس کی فرودگا لشکر اسلام قرار دیتے الإسلام، وقيل بأرض وطاها ہیں اور بعض وہ جو دجال کے ظہور کی جگہ ہے مهدی غیر عیسی نخواهد بود۔ ہماں خواہد آمد و دیگرے غیر وے نیست۔ ہم چنین در باب نزول عیسی اختلافات واقع است - قرآن گواہی دہد کہ حضرت عیسی فوت کرد قول دیگر آنکه او از آسمان نازل بشود و ہنوز زنده است و نمرده وقومی برآنند که او حقیقت مرده است بر وفق آنچه قول قرآن کریم است۔ و خلاف این قول کسی راه رود که به مقابل حق هرزه ستیره کاری کند از قاتلین مرگ مسیح اکثر بر آنند که نزولش بطور بروز افتد ومعتزلہ وا کا بر صوفیہ بر ہمیں مسلک رفتار کرده اند - اما قائلان نزول از آسمان پس بعضی از ایشان گویند که او در نزد مناره دمشق فرود آید و بعضی گویند در لشکر اسلام نزول فرماید - و بعضے بر آنند که من السماء فهم اختلفوا في محلّ