نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 142 of 550

نجم الہدیٰ — Page 142

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۴۲ نجم الهدى ، لم تضطرم نیرانهم ولم تنصر هم پھر جبکہ ان کی آگ بھڑک نہ سکی اور ان کے بتوں أوثانهم، استطلعوا أكابرهم ما عندهم نے ان کی مدد نہ کی تو پھر وہ لوگ مسلمانوں کے من الآراء ، وشاوروهم في أمر الصلح ساتھ صلح کرنے کے لئے باہم مشورے کرنے والمراء۔ فقالوا لم تبق قوة وما يترقب لگے اور ان میں سے اچھے آدمیوں نے کہا کہ اب من جهة نصرة، وقال اخيارهم إلى صلح بہتر ہے کیونکہ معاملات میں ابتری واقع ہو متى هذه التنازعات وقد اختل گئی ۔ اور علاوہ اس کے طاعون نے بھی ان کو المعاملات۔ ومع ذالك خوفهم هول | الطاعون وفجأة الـمـنون، فاختاروا السلم في هذه الأيام۔ فالحاصل أن هذه الآية آية عظيمة من الله العلام هو الله الذي يجيب المضطر إذا ڈرایا ۔ سو ان دنوں میں انہوں نے صلح کر لی اور یہ ایک خدا تعالیٰ کی طرف سے نشان ہے ۔ وہ وہی قادر خدا ہے جو بے قراروں کی دعا سنتا ہے اور امید واروں کو نومید نہیں کرتا ۔ اور جو شخص اس کی پناہ چاہتا ہے اس کو ضائع نہیں دعاه، ولا يُخيّب من رجاه، ولا يُضيع ۲۷) من استرعاه، له الحمد والجلال کرتا اس کو حمد اور جلال اور عظمت ہے اور اس والعظمة۔ ولقد ملكتنا فی آیه الحیرة کے نشانوں پر نظر ڈال کر حیرت دامن گیر واغرورقت العين بالدموع ہوتی ہے اور آنکھیں چشم پر آب ہو جاتی ہیں خلاصہ چوں ایشانرا میسر نیامد که آتش ایشان تواند زبانه بالا کشد و بتائے اوشاں از دستگیری فرو ماندند در میانه خود با مشوره کردند که با مسلمانان از در آشتی در آیند چه کلانان انها دیدند که خللی در معاملات رو داده و علاوہ ازاں طاعون ہم تہدید و ترس افزود - آخر مصالحت در میان دو قوم واقع شد ۔ الغرض ایس نشانی بزرگ ست که خدا تعالی بتائید بنده خود بخود آن قادر خدائے کہ دُعائے مضطران را می شنود و امیدواران را دست رو بر سینه نمی زند و پناه جو بنده را هلاک و تلف نمی سازد - حمد و جلال و عظمت مراد راسزاوار است چون بریں نشانهایش نظر کنیم حیرت و شگفت می آید و دید و پر آب میگردد۔