نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 550

نجم الہدیٰ — Page 140

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۴۰ نجم الهدى واستـرى الموت سريهم، وكانوا اور وہ تلاش میں وہ بدہ اور شہر بشہر پھرنے لگے يتيهون فى الأرض مقترین تاکہ قاتل کا ان کو سراغ ملے یا کسی مخبر کی مستقرين، لعلهم يجدوا أثرا من قاتل ملاقات ہو۔ اور جب نومید ہو گئے تو بعض نے أو يـلاقـوا بـعـض الـمـخـبـريـن ولـمـا کہا کہ یہ تو خاص خدا کا بھید ہے اور اُن کا غم استيأسوا فقال به ل بعضهم إن هذا إلا بڑھتا گیا اور کام میں مشکلات بڑھتی گئیں۔ سر ربّ العالمين، و لم يزل أسفهم | يتزايد والأمر عليهم يتكاء د وصاروا | اور دیوانوں کی طرح ہو گئے اور مارے غم کے تاریکی اور روشنی میں فرق نہیں کر سکتے تھے اور كالمجانين وكانوا لا يُفرّقون بين اُن کا تمام نازغم سے جاتا رہا۔ کیونکہ اُن پر الدجى والصحى، وزال تدلّلهم من حجت پوری ہوگئی اور وہ مسلمانوں کے قرض الشجي بما تمت الحجة عليهم وفدحهم ديون المسلمين۔ وحسبوا | کے زیر بار ہو گئے اور اس کی موت کو انہوں موته نكبة عظيمة، ونائية عميمة | نے بڑی مصیبت سمجھا اور ایک عام حادثہ وأرجف المسلمون وقيل إن الآرية خیال کیا ۔ اور لوگوں نے یہ خبریں بھی اڑائیں سيقتلون أحدًا من سراة الإسلام ليأخذوا کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے معززین زیرا که مرگ برگزیده ایشان را از میانه ایشان در بود و در طلب قاتل ده بده وقریہ بقر یہ گر دیدند ۔ چوں یاس برایشاں چیره شد بعضے گمان کردند کہ ایس کا رخداست - خلاصه کوه اند وہ برسرشاں فرود آمد و دشوار یہا و پیچید گیبار و نمود و چون دیوانگان گردیدند حتی که از شدت غم والم روز را از شب بازنه می شناختید و ہمہ راحت و نازشان بسوز و گداز مبدل شد زیرا که حجبه الله بر ایشاں تمام شد و دوش ایشان از دام اہا لئے اسلام گراں بار گردید - مرگ لیکرام را دامبی نظمی پنداشتند و کودک و بر نا در سوگواری اش نشستید هم در آن زمان در افواه افتاد که هنود می گویند که یکی را از اعزه اسلام خواهند کشت تا دیده را از گرفتن