نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 550

نجم الہدیٰ — Page 132

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۳۲ نجم الهدى نفسه من عجائب ربّ السماوات، تھا۔ اور مجھ سے اس لئے نشان طلب کرتا تھا کہ تا وأصر على الطلب ليكون له وقع في ہندوؤں کے دلوں میں اس کی عزت پیدا ہو ۔ أعين المشركين والمشركات۔ ولما اور جب وہ قادیان سے چلا گیا تو میں نے خواب قصد الرحيل وختم القال والقيل۔ میں دیکھا کہ ایک میدان میں میں کھڑا ہوں اور رأيت أني مقيم في صحن مكان كالشجعان، وفى يدى رمح ذابل میرے ہاتھ میں ایک بار یک نیزہ ہے جو بہت حديد السنان، کثیر البریق چمک رہا ہے اور میں نے اس کو ایک مردہ پایا جو واللمعان، وأراه أمام عينى ميتًا علی میرے آگے پڑا ہے اور میں اس نیزہ سے اس التراب، وأطعن رأسه بنية الانصاب کے سرکو اِدھر اُدھر کرتا ہوں ۔ تب ایک بولنے ويتلألأ سنانى عند كل طعنى ويبرق كالشهاب، ثم قال قائل ذهب وما والے نے آواز دی کہ یہ چلا گیا اور پھر قادیان میں کبھی نہیں آئے گا۔ سو در حقیقت وہ پھر واپس يرجع قط إلى هذه الحداب۔ فوالله مين ما رجع حتى نعاه إلينا بعض نه آیا یہاں تک کہ ہم نے اُس کے مرنے کی خبر الأصحاب۔ وتفصيل هذه القصة سنی اور اس قصہ کی تفصیل یوں ہے کہ انکار تمام داشت و از من جهت آن طلب میکرد که وقعے در دل ہنود پیدا بکند و چون از قادیاں برفت در خواب می بینم در میدانی ایستاده ام و نیزه تیز درخشان در دست من است و می بینم لیکھرام را مرده داری در پیش من افتاده است با نوک نیزه سرش را تقلیب می کنم ۔ نا گہاں گوینده آواز بداد که این رفت است و دیگر بقادیاں باز نخواهد آمد و تحقیقت ہم چنیں پدیدار شد و هر چه بعد از ۲۵ رفتنش دیگر بقادیان آمد آن خبر ہلاکش بود تفصیل اس اجمال و کشف این مقال آنکہ چوں از تیں جا