نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 550

نجم الہدیٰ — Page 131

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۳۱ نجم الهدى صار أشد خصومة في الدين۔ وكان اور سخت جھگڑا شروع کر دیا ۔ اور وہ ابتدا میں میری صحبت کی طرف مائل ہو گیا تھا اور امید في أول أمره مال إلـى صحبتي، رکھتا تھا کہ میں نشان دیکھوں ۔ پس یہ لوگ اس ، فبطأ به کے مزاحم ہوئے اور اس ارادہ سے اُس کو ہٹا دیا لعله يرى أمارات حقيتى هؤلاء خوفًا من أثر الصحبة، وقالوا تا اثر صحبت سے متاثر نہ ہو جائے اور اس کو کہا ماتطلب منه وإنا نحن من أهل كه تو ان کی صحبت میں رہ کر کیا کرے گا اور ہم تو التجربة۔ وهو تبوء القاديان إلى اس کی نسبت اہل تجربہ ہیں ۔ اور وہ قادیان شهر تام، وأخذ أنواع مفتريات من میں قریباً ایک مہینہ تک ٹھہرا اور بہت سے افترا اُس نے اپنے دل میں بٹھائے اور جہنم کی آگ لئام، حتى أوقدوه كنار الجحيم کی طرح ان لوگوں نے اس کو افروختہ کیا اور اس کے دل کو رات کی طرح سیاہ کر دیا ۔ اور وسوّدوا قلبه ولا كسواد الليل البهيم، ثم رحل بعد أخذ هذه پھر وہ ان تعلیموں کو یا کر چلا گیا اور مجھ سے التعاليم۔ وطـفـق يـطـالب مني آية نشانوں کا طلب کرنا شروع کیا اور اس کے من الآيات، وقد اضطرمت فی دل میں دشمنی کی آگ بھڑک اٹھی۔ اور وہ خدا تعالیٰ قلبه نار المعادات، وكان يُنكر فى کے نشانوں سے اپنے دل میں انکاری از کثرت گفت و شنید سخت شد و همه دروغ زنہا و ہرزہ کار یہائے آنان را راست دانست و پیکار درشتی پیش گرفت اما اولاً رو مائل بصحبت من بوده متوقع آن بود که نشانے از من به بیند ۔ ولے این مردم مانع آمده از ان اراده اش باز داشتند که نباید از رفتار و گفتار من متاثر بشود و گفتند نشست پیش ایں کس چه حاصل که ما ساکنان این ده و همسایگان و نسبت بایں کس صاحب تجربت وخبرت می باشیم ۔ او یک ماه در قادیان مکث نمود و انبار افترا با درنز وخود فراہم آورد ۔ واہا لئے ایس یہ چوں دوزخش بیفر وختند و دل وے را چوں شب تا رسیاه گردانیدند - آخر او ایں ہمہ آموختہ ازیں جا برفت ونشان از من طلب می کرد و آتش عداوت سرا پائے وے را بگرفت ۔ واو بر نشا نہائے خدا