نجم الہدیٰ — Page 130
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۳۰ نجم الهدى کماهي عادة السفهاء، وأخذنى جيسا کہ کمینوں کی عادت ہوتی ہے اپنی تحریر میں بہت کچھ سختی کی اور مجھے اپنا مدیون قرار دے کر بالعنف كالغرماء، وجرأه مشركو هذه ملامت شروع کی اور اس گاؤں کے ہندوؤں نے الـقـريـة عـلـى مطالبة الآية، وكانوا اس کو نشانوں کے طلب کے لئے دلیر کیا اور باطل کہانیاں پیش کر کے اس کا ڈھارس باندھا تا کہ يعللونه بالقصص الباطلة ليزول منه اس رعب کو دور کریں جو اس پر پڑا ہوا تھا اور یہ الرعب ويأخذه نوم الغفلة وكانوا قادیان کے لوگ اس کے کانوں میں پھونکتے ينفخون في آذانه أن هذا الرجل رہے کہ شخص تو جھوٹا اور مکار ہے۔ پس ایسا نہ ہو کاذب مگار ، فلا يأخذك رعبه ولا | کہ تو اس کے رعب کے نیچے آجائے۔ اور مجھے خدا کی قسم ہے کہ اس کے قتل کرنے والے یہی قادیان بزورهم بل كانوا يسيئون۔ فقسى اسیطرار۔ فوالله ما أهراق دمه إلا کے لوگ نہیں کیونکہ ان لوگوں نے ہی میری دشمنی هذه الكذابون، فإنهم أغروه علی اور مقابلہ کے لئے اس کو دلیر کیا اور قسمیں کھا کھا وكانوا يحلفون، وما أحسنوا إليه كر اس کو تسلی دی ۔ مگر ان لوگوں نے ان باتوں کے ساتھ اُس سے نیکی نہیں کی بلکہ بدی کی ۔ آخر نتیجہ یہ ہوا کہ ان لوگوں کی بہت سی باتیں سننے قلبه بكلماتهم و آمن بمفترياتھم سے اس کا دل سخت ہو گیا اور وہ ان کے افتراؤں وتلطخ برجس الشياطين ، و کو مان گیا اور ان کی پلیدی سے آلودہ ہو گیا استہزا کہ نشانہائے شما چه شد و آیا هنوز پردہ از روئے دروغ و زور شما بر نخاستہ ۔ و چوں پست نثر اداں دران نامه دقیقه از سفاہت و یاوہ گوئی فرو نگذاشت و مرا مدیون خود قرار داده از هیچ گونه زجر و تواریخ دریغ نفرمود ۔ ہندو زادہ ہائے ایں وہ برائے طلب نشان دلیرش ساختند و افسانہائے ہر ز و در گوشش انداخته پشت وے را توانا کردند و بکوشیدند که آن بیم و هراس که بروے دست یافته بود از درونش بدر رود و در گوشش مید میدند که این کس کا ذب محض است زنها راز وے خوفے در دلت راہ مبادا۔ و بخدا قا تلانش اہالئے ایس دہ بوده اند زیرا که این مردم اورابر مقاومت من بداشتند و سوگند با یاد کرده تقویت وے نمودند ۔ اے دریغ این مردم در جائے خیر شرے وضررے باورسانیدند ۔ آخر دلش