نجم الہدیٰ — Page 119
روحانی خزائن جلد ۱۴ 119 نجم الهدى والابتداء ، فيُكفّر ويُكذب ويُعزى إلى تكذيب ہو گی ۔ اور دجل اور تلہیس اور افترا کی الدجل والتلبيس والافتراء ، وتكتب طرف منسوب کیا جائے گا اور اس پر کفر اور مرتد عليه فتاوى الكفر والخروج من ہونے کے فتوے لکھے جائیں گے اور وہ سب کچھ الشريعة الغراء ، ويُقال فيه كل ما قال اس کے حق میں کہا جائے گا جو کافروں نے نبیوں الكافرون في الأنبياء۔ ثم توضع له کے حق میں کہا۔ پھر اس کی قبولیت زمین پر پھیلائی القبولية في الأرض من حضرة الكبرياء جائے گی ۔ پس مومنوں میں سے دو آدمی ایسے نہ فلا يوجد اثنان من المؤمنين إلا | ويذكرونه بالمدح والثناء۔ ثم اعلم أن آية الخسوف والكسوف قد ذكرها | القرآن في أنباء قرب القيامة، وإن شئت | پائے جائیں گے کہ اس کو مدح اور ثنا کے ساتھ یاد نہ کرتے ہوں اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ قرآن شریف نے کسوف خسوف کے نشان کو قرب قیامت کے نشانوں میں سے لکھا ہے اور اگر تو چاہے تو اس آیت فاقرأ هذه الآية وكررها لإدراك هذه الحقيقة فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ کو پڑھ کہ فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ فِي الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ او ثم تدبّر بالخشوع والخشية، ولا يذهب یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ نشان قیامت کے واقعات میں فكرك إلى أنه من وقائع القيامة، سے ہے کیونکہ جس خسوف اور کسوف کا اس جگہ ذکر و بعد زاں برائے وے قبولیت در زمین نهاده شود حتی کہ دوتن اگر در جائے فراہم آیند مدح و ثنائے او بر زبان برانند ۔ مخفی نماند که قرآن کریم خسوف و کسوف را از نشانہائے قرب قیامت قرار داده چنانچه گوید فَإِذَا بَرقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ امْسُ وَالْقَمَرُ معنی اش آن نه که این نشان از واقعات قیامت بوده است زیرا که خسوف و کسوف که این جاند کور است بسته به وجود این عالم است۔ چه آن ناشی از القيمة : ٨ تا ١٠