نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 550

نجم الہدیٰ — Page 93

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۹۳ نجم الهدى هذا يوم القبول والردّ من رب اور یہ دن قبول اور رڈ کا دن ہے ۔ اس میں العالمين۔ أما الذين قبلوا فتری قبول کرنے والوں کے منہ کشادہ اور خنداں وجوههم متهللة مستبشرة عارفة، اور پہچاننے والے ہیں اور رد کرنے والوں وأما الذين ردوا فوجوههم كالحة كى منه ترش اور بدشکل اور نا شناس ہیں اور دميمة مستنكرة، وكـل يــرى مـا جس نے صادق کے پاس آکر اُس کی تصدیق كسب في هذه والآخرة۔ فمن جاء کی اس نے نئے سرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الصادق مصدقا فقد صدق الرسول کی تصدیق کی اور اپنے امر متفرق کو جمع کر لیا مجددا وجمع شملا مبددا، ومن اور جس نے اعراض اور انکار کر کے صادق أعرض عن الصادق فعصى نبي الله وما کی تکذیب کی وہ شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بالى التهدد۔ وما أقول من تلقاء كا نا فرمان ہو گیا اور کچھ نہ ڈرا۔ یہ میرا قول نہیں نفسي بل هذا ما قال ربى وأكد بلکہ یہی خدا تعالیٰ نے تاکید فرمایا ہے۔ میرے القول وشدّد۔ ابتليت ببعثتی جموع مبعوث ہونے کے ساتھ تمام زاہد اور عابد آزمائے الزهاد والعباد، ولا يعرفني إلا گئے اور مجھے وہی دل جانتے ہیں جو بدلائے ورڈ است - آنانکه پذیرفتند روی ہائے شان درخشان و خندان و شناسا استند وروی ہائے سر باز زنان ترش و زشت و نا شناسا استند ـ هر که در نز د صادق آمد و صدقش را پذیرفت او از نو تصدیق رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کردو امور پریشان خود را فراهم آورد و آنکه از گردن کشی و انکار کمر بر تکذیب صادق بر بست او گردن از فرمان رسول کریم به پیچید و بیمی در دل نیاورد۔ ایس گفتار ہوائے من نیست بل گفتار تاکیدی پروردگار است۔ همه زاهدان به سبب بعثت من آزموده شدند و مرا می شناسد مگر دلہائے