نجم الہدیٰ — Page 79
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۷۹ نجم الهدى ويـفـعـل مـا أراد۔ فكان من مقتضی اور جو کچھ چاہتا ہے ظہور میں لاتا ہے پس یہ وعدہ کا الوعد أن يُرسل مسيحه لکسر مقتضا تھا کہ وہ کسر صلیب کے لئے اپنے مسیح کو صليب علا، والكريم إذا وعد وفا بھیجے۔ اور کریم جب وعدہ کرتا ہے تو پورا کرتا ہے۔ الواضحة والحجج البيئة۔ وانا أمرنا ان اور ہمیں حکم ہے کہ ہم نرمی اور علم کے ساتھ محبت کو پوری کریں۔ اور بدی کے عوض میں بدی نہ کریں نتم الحجة بالرفق والحلم والتؤدة۔ ولا ندفع السيئة بالسيئة الا اذا كثر سب مگر اس صورت میں جب کوئی شخص رسول اللہ بقية الحاشية رسول الله و بلغ الامر الى القذف و كمال الاهانة فلا نسب احدا من النصارى۔ ولا نتصدى لهم بالشتم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے اور اہانت کرنے اور فحش گوئی میں حد سے بڑھ جائے ۔ پس ہم عیسائیوں کو گالی نہیں دیتے۔ اور دشنام اور بخش گوئی اور ہتک عزت سے پیش نہیں آتے اور ہم صرف والقذف وهتك الأعراض۔ وانما ان لوگوں کی طرف توجہ کرتے ہیں جو ہمارے نبی نقصد شطر الذين سبوا نبينا صلى الله | عليه وسلم وبالغوافيه بالتصريح صلی اللہ علیہ وسلم کو بصراحت یا اشارات سے گالیاں دیتے ہیں۔ اور ہم ان پادری صاحبوں کی بقیه حاشيه او الايماض۔ ونكرم قسوسا لا يسبون - عزت کرتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۱۵ ولا يقذفون رسولنا كالارازل و العامة۔ کو گالیاں نہیں دیتے اور ایسے دلوں کو جو اس ۱۵ ونعظم القلوب المنزهة عن هذه پلیدی سے پاک ہیں ہم قابل تعظیم سمجھتے ہیں اور العذرة۔ ونذكرهم بالاكرام و التكرمة۔ تعظیم و تکریم کے ساتھ ان کا نام لیتے ہیں۔ اور ہمارے کسی بیان میں کوئی ایسا حرف اور نقطہ فليس في بيان منا حرف ولا نقطة | و هر چه خواهد بظهور آرد و مقتضائے وعدہ آن بود که مسیح خود را جهت شکستن صلیب بفرستند و کریم را عادت است و کسر شاں صلیب و تکذیب امرش با دلائل روشن است و ما ماموریم بایں کہ با نرمی و بردباری اتمام حجت بکنیم و در جائے بد بد روئے کار نیاریم بلے ہر گاہ کسے رسول کریم ما را بد بگوید البتہ او را پاسخ درشت می دهیم - مانصاری را دشنام نمی دهیم و زنهار در پوستین شان در نمی افتیم و روئے ہمت ما مخصوصاً متوجه با نها است که با شاره و صراحت سید و آقائے مارا ( صلی اللہ علیہ وسلم ) دشنام دهند - ما کشیشا نے را که عادت سقط گفتن ندارند بزرگ داریم ۔ و دلہائے را که از این گندگی و نا پا کی پاک اند احترام واجب دانیم و نام شان به نیکی بر زبان آریم ۱۵