منن الرحمٰن — Page 241
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۴۱ منن فدعت ضيوف الفطرة الى القُرى و مـطـائـب مـا تشتهى۔ واثبتت انها من (۹۷) پس اس نے نیچرل مہمانوں کو دعوت کے لئے بلایا اور عمدہ اور قابل رغبت کھانے تیار کر کے ان کو مدعو کیا اور ثابت کر دیا کہ وہ مالداروں اور المتمولين المعطين۔ فلا تمل الى زبون۔ و لا تُغض على صفقة مغبون اتستبدل دینے والوں میں سے ہے پس تو کسی مغلوب کی طرف میل مت کر اور خسارہ کی پچ پر چشم پوشی مت کرکیا تو اچھی اور بہتر کو چھوڑ کر ادی کو الذي هو ادنى بالذي هو خير فافكر ساعة يا عار العير۔ واطلب سبل الموفقين۔ اختیار کرلے گا پس کچھ تھوڑی دیر فکر کر اے گدھے کی جائے ننگ اور توفیق یافتہ لوگوں کی راہ ڈھونڈ اور جان کہ وہ برگزیدہ علوم کی طرف رہنما واعلم أنها خفير الى العلوم النخب من غير الوجى والتعب۔ فمن قصدها فقد ہے بغیر اس کے کہ کچھ ماندگی اور فرسودگی پیش آوے پس جس نے اس کا قصد کیا وہ سونے کی طرف گیا اور جو شخص جدا ہونے کے ساتھ اس ذهب الى الذهب ومن باعدها بالهجر۔ فقد رضى بايثار الهجر وهوى في هوة سے دور ہو گیا۔ وہ بے ہودہ گوئی پر راضی ہوگیا اور نیچے رہنے والوں کے گڑھے میں گر گیا۔ اور عربی اپنے جمال کے ساتھ غیر کی حاجت سے السافلين۔ وانها غانية زيّنت نفسها بكمال النظام۔ وتجلّت بالحسن التام ولكل لا پرواہ ہے اور کمال نظام کے ساتھ اپنے نفس کو اس نے آراستہ کیا ہے اور حسن نام کے ساتھ اس نے تجلی فرمائی ہے اور ہر یک سائل کا سوال سائل قامت بالاجابة حتى ثبتت ثروتها وانجابت غشاوة الاسترابة واعتقبت | قبول کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ اس کی دولتمندی ثابت ہوگئی اور شک دور ہو گیا اور وہ فطرت اور نیچر کے اسباب کے پیچھے دواعي الطبع۔ ووسعت لها فناء الربع۔ وحلّت بكل ماحل تقسيم طبعى بل حمله | پیچھے چل رہی ہے اور ان کے لئے اپنے گھر کو بہت وسیع بنارکھا ہے اور وہ ہر ایک ایسی جگہ میں اترے جہاں تقسیم طبعی اتری بلکہ اس کو ایسے كما يحمل اوزارًا مهرى وطابقت حتى اعجبت الناظرين فهي شجرة مبارك اٹھالیا جیسے اونٹ بوجھ کواٹھاتا ہے اور اس سے ایسی مطابق آگئی کہ دیکھنے والے کو تعجب میں ڈالا پس وہ ایسا درخت ہے جس کی شاخیں بال اغصانها كالبريد۔ واصولها كالوصيد وموادها كاليقطين۔ وانا لا نسلم ان مرتب کی طرح ہیں اور اس کے اصول اس بوٹے کی طرح ہیں جس کی جڑ ہیں آپس میں ملی ہوئی ہوں اور ہم اس بات کو تسلیم نہیں کریں گے کمال نظامها يوجد في غيرها ۔ او يبلغها لسان في سيرها۔ نعم نسلم ان كل کہ اس کے نظام کا کمال اس کے غیر میں بھی پایا جاتا یا اس کے سیر میں کوئی زبان اس کے برابر ہے ہاں ہم اس قدر قبول کرتے ہیں کہ