منن الرحمٰن — Page 216
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۱۶ منن الرحمن (۷۲) مثلت لي امتي في الماء والطين۔ وعُلّمت الاسماء كما علم آدم الاسماء۔ کہ میری امت میرے لئے پانی اور مٹی میں متمثل کی گئی اور مجھے نام سکھلائے گئے جیسا کہ آدم کو نام سکھلائے فانظر الى ما اشار فخر المرسلين۔ وانت تعلم انه صلى الله عليه وسلم كان گئے ۔ پس اس امر میں فکر کر جس کی طرف آنحضرت صلعم نے اشارہ فرمایا اور تو جانتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اميا لا يعلم غير العربية۔ نعم أوتى جوامع الكلم في هذه اللهجة۔ فظهر ان امی تھے بجز عربی کے کسی اور زبان کو نہیں جانتے تھے ۔ ہاں آپ کو جوامع الکلم زبان عربی میں ملی تھی پس ظاہر المراد من الاسماء في قصة ادم و حديث خير الانبياء هي العربية ہوا کہ اسماء سے مراد حضرت آدم کے قصہ اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں زبان عربی ہے جیسا المباركة۔ كما تدل عليه النصوص القطعية من كتاب مبين۔ الا تنظر الى کہ نصوص قطعیہ کلام الہی کی اس پر دلالت کرتی ہیں کیا تو زبانوں کے اشتراک کی طرف نہیں دیکھتا کیونکہ وہ بہت اشتراک الالسنة۔ فانه يوجد في كثير من الالفاظ المتفرقة ولا يمكن هذا الا سے الفاظ متفرقہ میں پایا جاتا ہے اور ایسا اور اس قد راشتراک بجز اس صورت کے ممکن نہیں کہ تمام زبانیں ایک بعد كونها شعب اصل واحد في الحقيقة۔ وانكارها كانكار العلوم الحسية | ہی زبان کی شاخیں ہوں اور اس کا انکار علوم حسیہ کے انکار کی مانند ہے اور ان امور کے ان امور کے انکار کی طرح جو ثابت والامور الثابتة المرئية۔ فان كان تغاير الالسنة من اول الفطرة فكيف وجد اور مرئی ہوں پس اگر زبانوں کا اختلاف ابتدا سے چلا آتا ہے پس کیونکر با وجود اس اختلاف قدیم کے زبانوں الاشتراك مع عدم الاتحاد في الاصل والجرثومة فلا بد من ان نقر بلسان هي میں اشتراک ہو گیا پس یہ بات ضروری ہے کہ ہم ایک ایسی زبان کا اقرار کریں کہ وہ تمام زبانوں کی ماں ہو ام كلها لكمال بيان و انكاره جهل و سفاهة واللدد تحكم ومكابرة۔ وقد تبين اور انکار اس بات کا جہالت اور کم عقلی ہے اور جھگڑنا ناحق کی حکومت اور ناحق کا کبر ہے اور تم طالب ہو تو حق تو الحق لو كنتم طالبين۔ و في العربية كمالات و خواص و آيات تجعلها أم غيرها کھل چکا اور زبان عربی میں وہ کمالات اور نشان ہیں جو محققوں کی نظر میں اس کو اس کے