منن الرحمٰن — Page 215
۲۱۵ منن الرح روحانی خزائن جلد ۹ حديثا من خير الورى و رجال أخرون أولوا العلم والنّهى ۔ وحدثوا برواية اخرى اے صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث لایا ہے اور دوسرے اہل علم بھی دوسری روایتوں سے بیان کرتے ہیں سو فقالوا ان العربية هي اللسان الاولى من الله المولى۔ نزلت مع ادم من الجنة انہوں نے کہا ہے کہ عربی ہی پہلی زبان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور آدم کے ساتھ بہشت سے العليا۔ ثم بعد طول العهد حرّفت وحدثت لغات شتى و اول ما ظهر بعد اتری ہے ۔ پھر ایک زمانہ کے بعد محرف ہو گئی اور اس سے اور زبانیں پیدا ہو گئیں اور تحریف کے بعد جو پہلی التحريف كان سريانيًا باذن الله اللطيف ۔ و صرف الله اليه لهجة المبدلين۔ زبان ظاہر ہوئی وہ سُریانی تھی اور خدا تعالیٰ نے زبان کے بدلانے والوں کا لہجہ ویسا ہی کر دیا اور اسی واسطے و لاجل ذلك سمى العربي الاول عند المتقدمين۔ وكان عربيا بادنى تصريف | متقدمین اس کو پہلی عربی کہا کرتے تھے ۔ اور وہ ادنی تغیر کے ساتھ عربی ہی تھی پھر اور اور زبانیں پیدا ہو گئیں المتصرفين ثم حدثت السنة اخرى كما حدثت الملل والنحل في الدنيا۔ وهذا جیسا کہ اور اور مذاہب پیدا ہو گئے اور یہی بات عقلمندوں کے نزدیک حق ہے ۔ پھر پہچاننے کے طریقوں میں هـو الـحـق فـتـدبـر كالعاقلين۔ ثم من سبل العرفان انك تجد فی القرآن ذکرا سے ایک یہ ہے کہ تو قرآن میں زبان اور رنگ کے اختلاف کے بارہ میں ایک ہی جگہ ذکر پائے گا پس واحدًا في اختلاف اللسان والالوان۔ فالله يشير الى ان اللسان كانت واحدة في خدا تعالیٰ ان دونوں کو ایک جگہ ذکر کرنے سے یہی اشارہ کرتا ہے کہ زبان ایک زمانہ میں ایک تھی چنا نچہ رنگ زمان كما كان اللون لونا واحدًا قبل الوان۔ ثم اختلفا بعد زمان وحين ثم من بھی ایک زمانہ میں ایک تھا پھر طول زمانہ کے بعد دونوں میں اختلاف ہو گیا پھر ایک لطیف اشارہ یہ ہے کہ لطايف الايماء ان خاتم الانبیاء جعل نفسه شریک ادم في تعلم الاسماء كما خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو اسماء کے سکھائے جانے میں آدم کا شریک ٹھہرایا ہے جیسا کہ اخرج الديلمي في حـديـث الـطيـن والـمـاء ففكر فيما قال خاتم النبيين۔ دیلمی نے حدیث طین اور ماء میں روایت کی ہے پس تو اس قول میں فکر کر جو آنحضرت صلعم نے فرمایا