منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 581

منن الرحمٰن — Page 211

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۱۱ منن من الـعـاقـلـيـن۔ واشكر الله على ما جاءك من البراهين۔ و لا تنس ان لفظ (۶۷) اور ان دلائل کی وجہ سے جو تجھ کو ملے خدا تعالیٰ کا شکر کر اور اس بات کو فراموش مت کر کہ عرب کا لفظ عجما - سے مشتق العجم قد اشتق من العجماء وهو البهيمة فى هذه اللغة الغراء۔ فتدبر وجه | ہے اور عجماء لغت عربی میں چار پائے کو کہتے ہیں پس اس وجہ تسمیہ کو سمجھ لے تا کہ تیرے پر حقیقت کا مغز کھلے التسمية لينكشف عليك لب الحقيقة ولتكون من الموقنين۔ وكم من آية اور تا کہ تو یقین کرنے والوں سے ہو اور بہت سے نشان اس پر دلالت کرتے ہیں اگر تو طالب ہو ان نشانوں تدل عليها لو كنتم طالبين ومنها ان ا الله سمی الانسان سميعا في الفرقان۔ میں سے ایک یہ ہے کہ خدا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کا نام سمیع رکھا ہے ۔ پس اس سمیع کے لفظ سے سمجھا جاتا ہے کہ پہلے فيفهم منه انه اسمعه في اول الزمان و ماتركه كالمخذولين۔ زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ہی اس کو سنایا اور اس کو خذلان کی حالت میں نہ چھوڑا ۔ و منـهـا انـه اوضــح فـي البـقـرة هذا الايماء وقال عَلَّمَ أَدَمَ الْأَسْمَاءَ اور ان نشانوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے سورہ بقرہ میں اس اشارہ کو زیادہ واضح کر کے لکھا ہے فهذا التعليم يدل على اشياء منها انه مكان معلم الكلمات بتوسط اور کہا ہے کہ خدا نے آدم کو نام سکھائے پس یہ سکھلا نا کئی باتوں پر دلالت کرتا ہے ان میں سے ایک یہ کہ المسميات و نعنى بالمسميات كلما يمكن بيانه بالاشارات فعلا كان او من | خدا تعالیٰ نے کلمات کو مسمیات کے ذریعہ سے سکھلایا اور مسمیات سے مراد ہمارے ایسے امور ہیں جن کا بیان کرنا اسماء المخلوقات۔ ومنها انه كان معلم حقايق الاشياء وخواصها المكتومة | اشارات کے ذریعہ سے ممکن ہے خواہ وہ فعل ہوں یا اسماء مخلوقات میں سے ہوں اور پھر دوسرا امر یہ ہے کہ حقائق المخزونة فى حيز الاختفاء بلغة عربي مبين۔ وان قلت ان النحويين خصصوا اشیاء اور ان کے جو چھپے ہوئے خواص ہیں وہ زبان عربی میں سکھلائے گئے ۔ اور اگر تو یہ بات کہے کہ نحویوں نے لفظ لفظ الاسم بالاسماء المخصوصة التي لها معاني ولا تقترن باحد اسم کو اسماء مخصوصہ سے خاص کیا ہے۔ یعنی وہ اسماء جن کے واسطے معانی ہیں اور تین زمانوں میں سے کسی سے اقتران سہو کتابت معلوم ہوتا ہے عجم “ ہونا چاہیے۔(ناشر) البقرة: ٣٢