منن الرحمٰن — Page 202
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۰۲ منن الرحمن ان الله الذي نفخ روحه فيه۔ ما كان قادرًا أن ينطق فيه۔ مالك لا تفكر کیا تو یہ خیال کرتا ہے کہ وہ خدا جس نے انسان میں زندگی کی روح پھونکی وہ اس بات پر قادر نہیں تھا کہ اس كالمسترشدين۔ اتظن ان الله غادر ربوبيته ناقصة اووثئت يده بعد ما کے منہ کو کلام کرنے پر قادر کر دیتا تجھے کیا ہو گیا کہ تو رشید لوگوں کی طرح نہیں سوچتا ۔ کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ ارى قدرة او كـفـه رجل من الحاجزين۔ وان كنت تقر بالتعليم ولكن خدا تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کو ناقص چھوڑ دیا یا قدرت دکھلانے کے بعد پھر ہاتھ اس کے نکمے ہو گئے یا کسی روکنے لا تقر بتعليم الرب الكريم بل تسلک مسلک فلاسفة هذا الزمان ۔ والے نے اس کو روک دیا اور اگر یہ بات ہے کہ بولی سکھانے کا تو اقرار کرتا ہے لیکن یہ اقرار نہیں کرتا کہ خدا و تذهب الى قدم نوع الانسان۔ فاعلم ان هذا باطل بالبداهة والعيان ۔ نے سکھائی بلکہ اس زمانہ کے فلاسفروں کے نقش قدم پر چلتا ہے اور نوع انسان کے قدم کا قائل ہے پس جان کہ وان هو الا الدعوى كدعاوى الصبيان۔ او هذى كهذيان النشوان ما یہ خیال بالبداہت باطل ہے اور یہ صرف بچوں کے دعووں کے مانند دعوئی ہے اور یا مستوں کی بکواس کی طرح اتوا عليه بالبرهان۔ وما كانوا مثبتين۔ وكيف وانّ تفرّد حضرة الاحدية ایک بکواس ہے ۔ وہ لوگ اس بات پر کچھ دلیل نہیں لا سکے اور اپنے مدعا کو ثابت نہیں کیا اور کیونکر یہ صحیح ہو جبکہ في كمال الذات والهويّة۔ يقتضى اراءة نقصان البرية ليعلموا ان البقاء | خدا تعالی کا اپنے ذاتی کمالات میں متفرد ہونا اس بات کو چاہتا ہے کہ اس کے مقابل پر تمام مخلوقات ناقص الذي هـو نـوع مــن الـكـمـال۔ لا يوجد الا في حي ذي العزة والجلال ۔ حالت میں ہو تا کہ سب لوگ جان لیں کہ وہ بقا جو کمال کے نوع میں سے ہے وہ بجز اس زندہ ذوالجلال کے کسی وليعلموا انه صمد غنى كفاه وجوده۔ و لا حاجة ان يكون احد وليه و میں نہیں پائے جاتے اور تا جان لیں کہ وہ بے نیاز ہے ۔ اس کا وجود اس کے لئے بس ہے کچھ حاجت نہیں کہ و دوده و ليس عليه ابقاء احد على وجه الوجوب۔ وليس امر لذاته کوئی اس کا مددگار ہو یا دوست ہو اور اس پر فرض نہیں کہ کسی کو ہمیشہ کے لئے باقی رکھے اور اس کی ذات