منن الرحمٰن — Page 201
۲۰۱ منن الرح روحانی خزائن جلد ۹ أن البشر الاول ما فهم الا بالتفهيم۔ فاقررت بما انكرت ان كنت من (۵۷) آگیا کہ پہلا انسان بھی بجھ سمجھانے کے خود بخود نہیں سمجھ سکا۔ پس اس صورت میں تو تو نے اس بات کا اقرار کر دیا جس کا المتفكرين۔ وقد جرب الناس و تظاهر الخبرة والقياس ۔ ان الاطفال انکار کر دیا تھا۔ یہی درست ہے اگر تو سوچے اور فکر کرے اور یہ بات تحقیق شدہ امر ہے کہ لوگ آزما چکے اور آزمائش اور ☆ المتولدين لويتركون غير متعلمين ولا بلمهم لسانهم احد من قیاس نے بالا تفاق یہ گواہی دی کہ بچے جو پیدا ہوتے ہیں اگر وہ بے تعلیم چھوڑے جائیں اور کوئی سکھانے والا ان کی زبان المعلمين فلا يقدرون على نطق ولا يجيبون المنطقين۔ بل يبقون كبكم | ان کو نہ سکھاوے پس وہ خود بخود بولنے پر قادر نہیں ہو سکتے اور نہ بلانے والوں کو جواب دے سکتے ہیں بلکہ گونگوں کی طرح صامتين فات دلیل اوضح من هذا لمن طلب الحق وهو امين۔ و ما اتبع چپ رہتے ہیں۔ پس اس سے بڑھ کر اس شخص کے لئے کون سی واضح دلیل ہوگی جو طالب حق اور امین ہے جو گمراہوں کی سبل الضالين۔ فجاهد حق الجهاد۔ وفكر كاهل الرشاد ولا تستعجل | راہ پر نہیں چلتا۔ پس کوشش کر جیسا کہ حق کوشش کا ہے اور فکر کر جیسا کہ اہل رشد فکر کیا کرتے ہیں اور کنارہ کش لوگوں کی طرح كالمعرضين۔ و من اجلى البديهيات ان ادم خلق من يدرب الكائنات ۔ جلدی مت کر اور یہ بات تو اجلی بدیہیات میں سے ہے کہ آدم خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے پیدا کیا گیا تھا۔ اور اس وقت وما كان احد معه من المعلمين والمعلمات۔ فثبت ان معلمه كان خالق | کوئی سکھانے والا یا سکھلانے والے آدم کے ساتھ موجود نہ تھا پس ثابت ہوا کہ آدم کا معلم اور بولی سکھانے والا المخلوقات أفلا تؤمن بقدرة قوى متين۔ افلا تعلم ان وجود البرية ظل خدا تعالیٰ ہی تھا کیا تو خدائے قادر زبردست کی قدرت پر ایمان نہیں لاتا کیا تجھے خبر نہیں کہ مخلوقات ربوبیت کی صفت کا لصفة الربوبية وبها كان ظهورهم في هذه النشأة وكان النطق من ت ظل ہے اور اسی صفت ربوبیت کے ساتھ تمام مخلوقات کا اس عالم میں ظہور ہوا اور بولنا انسان کی پیدائش کا ایک تنتمہ ہے خلق الانسان فكيف يجوز الخداج للذى ظهر من يدى الرحمان اتزعم | پس کیونکر ان چیزوں کو ناقص الخلقت خیال کیا جائے جو خدا تعالیٰ کے دونوں ہاتھوں سے ظہور میں آئے ہیں الكاتب والصحيح ” يعلمهم “ ۔ (ناشر) سهو تتمة