منن الرحمٰن — Page 200
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۰۰ منن الرح (۵۶) حتى وهب له لقب الخليفة۔ وكمله بكمال الفضل والرحمة و اعطى کے دونوں ہاتھوں سے پرورش کی ہے یہاں تک کہ اس کو خلیفہ کا لقب عطا کیا اور کمال فضل اور رحمت سے اس کو له ما لم يعط احدًا من المخلوقين۔ و انه هو الله الذي يربى الاشجار کامل کیا اور اس کو وہ نعمتیں دیں جو کسی مخلوق کو نہیں دیں اور وہ وہی خدا ہے جو کامل تربیت کے ساتھ درختوں کی بتربية كاملة حتى يجعلها دوحا ذات عظمة ۔ و يزيّنها بزهر و انواع | پر ورش کرتا ہے ۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے درخت ان کو کر دیتا ہے اور ان کو پھولوں اور قسم قسم کے پھلوں اور ثمرة ۔ واظلال باردة ممدودة تسُرّ الناظرين۔ فما زعمك انه خلق ٹھنڈے اور پھیلے ہوئے سایوں سے آرائش دیتا ہے اور ایسی آرائش دیتا ہے کہ دیکھنے والے خوش ہوتے ہیں الانسان خلقا غير تام و ما بلغه الى مقام فيه كمال نظام و تركه ناقصا پس تیرا کیا زعم ہے کہ اس خدا نے انسان کو ناقص پیدا کیا ہے اور ایسے کمال تک نہیں پہنچایا جس میں نظام کا کمال كاللاغبين۔ ثم العلوم التي توجد في مفردات اللسان العربية تشهد ہے اور تھکنے والوں کی طرح اس کو ناقص چھوڑ دیا ۔ پھر وہ علوم جو عربی زبان کے مفردات میں پائے جاتے ہیں بالشهادة الـجـلـيـلـة۔ انها ليسـت فـعـل احد من البريّة۔ وانها من خالق وہ کھلے کھلے طور پر گواہی دیتے ہیں کہ وہ مخلوق کا فعل نہیں ہیں اور اس کا فعل ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا السماء والارضين و لا يختلج في قلبك ان الانسان لا يتولد ناطقا کیا ہے اور تیرے دل میں یہ بات خلجان پیدا نہ کرے کہ انسان بولتا ہوا اور باتیں کرتا ہوا پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس متكلما بل يجد هذا الكمال متعلّما كما نشاهد بالحق واليقين۔ فان هذا کمال کو بذریعہ تعلیم کے پاتا ہے جیسا کہ ہم یقینی طور پر مشاہدہ کر رہے ہیں کیونکہ یہ اعتراض درحقیقت تیرے پر الا يراد علیک لا لک فاصلح حالک ولا يغفل بالک کالنائمین ہے نہ تیرے لئے پس اپنے حال کو درست کر اور اپنے دل کو سوئے ہوئے لوگوں کی طرح غافل مت کر کیونکہ فانك اذا قبلت ان النطق لا يحصل الا بالتعليم۔ فلزمك ان تقبل جب تو نے قبول کر لیا کہ بولنا صرف تعلیم کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے سو تجھے اس بات کا قبول کرنا بھی لازم