منن الرحمٰن — Page 163
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۶۳ منن الرحمن واعطاني ما يعطى المخلصين فلما وجدت الحق بفيضانه و ربّيتُ بلبانه اور مجھے وہ نعمتیں دیں جو مخلصوں کو دیا کرتا ہے۔ پس جبکہ میں نے اس کے فیضان سے حق کو پالیا اور اس کے دودھ رأيت شكر هذه الآلاء في ان امون خدمة الدين والشريعت الغراء۔ و أرى سے میں پرورش کیا گیا تو میں نے ان نعمتوں کا شکر اس بات میں دیکھا کہ دین کی خدمت میں اور شریعت کی تائید میں اپنے پر مشقت النـاس نـور الــديــن الـمتـيـن۔ و ارى مـلـكـوتـه بـعـسـاكـر البــراهيـن گوارا کروں۔ اور دین متین کا نور لوگوں کو دکھلاؤں۔ اور اس کی بادشاہت براہین کے لشکروں کے ساتھ ظاہر کروں۔ بقیه حاشیه : سب بولیاں بولی جاتی تھیں پس اس صورت میں حواریوں کی کرامات کیا ہوئی بلکہ ایسی باتوں کا اس زمانہ میں پیش کرنا قابل شرم ہے کیا ممکن نہیں کہ وہ بولیاں جو اسی شہر میں حواریوں کی قوم اور برادری میں بکثرت مستعمل تھیں حواریوں کو بھی یاد ہوں جبکہ ایک ہی قوم ایک ہی شہر ایک ہی برادری تھی اور تمدن کا سلسلہ چاہتا تھا کہ بوجہ رشتہ اور تعلق اور دن رات کی ملاقاتوں اور معاملات کے بعض بعض کی بولیوں سے واقف ہو جائیں تو اس بات میں کون سا استبعاد ہے کہ حواری بھی اپنے عزیز بھائیوں کی بولیوں سے واقف ہوں پس ایسی کرامت اُس کرامت سے کچھ زیادہ معلوم نہیں ہوتی کہ جو لا ہور کے سادھو بھی دکھلا دیا کرتے ہیں ہاں اگر میکس مولر یہ لکھتے کہ علم اللسان کا آغاز مسیح کے جانی دشمنوں سے ہوا ہے اور انہوں نے اول اول یہ بناڈالی تو یہ بات بظاہر کچی معلوم ہو سکتی تھی کیونکہ اعمال کے اسی باب میں اس بات کا اقرار ہے کہ یہود اسی شہر میں جہاں حواری رہتے تھے مدت دراز سے یہی بولیاں بولتے تھے سو تقدم یہود کو ثابت ہوا اور حواریوں کو اس قدر عزت دینا غنیمت ہے کہ یہ گمان کریں کہ شعبدہ بازوں کی طرح یہ نکارے نہیں تھے بلکہ یہ بولیاں اپنی برادری سے انہوں نے سیکھ لی تھیں کیونکہ انہیں میں انہوں نے پرورش پائی تھی اور اصل بات یہ ہے کہ بولیوں کی تحقیق کی طرف توجہ دلانے والا بجز قرآن کریم کے اور کوئی دنیا میں ظاہر نہیں ہوا ۔ اس پاک کلام نے یہ فرمایا وَمِنْ أَيْتِهِ خَلْقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ الْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذلك لايت لِلْعَلِمِينَ (سورہ روم ) یعنی خدا تعالیٰ کی ہستی اور توحید کے نشانوں میں سے زمین آسمان کا پیدا کرنا اور بولیوں اور رنگوں کا اختلاف ہے۔ در حقیقت خداشناسی کے لئے یہ بڑے نشان ہیں مگر ان کے لئے جو الروم : ٢٣