منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 581

منن الرحمٰن — Page 162

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۶۲ منن الرحمن اس ۲۰ و انه كشف على اسرارًا من الحقائق و انزل على عهاد المعارف والدقائق نے حقائق کے کئی اسرار مجھ پر کھولے اور معارف اور دقائق کی بارشیں میرے پر کیں بقیه حاشیه : پانچ ہزار روپیہ کا اشتہار اس کتاب کے ساتھ شائع کیا ہے پس اگر کوئی اس بیان کا مکذب ہے میکس ملر ہوں یا کوئی اور ہو تو ان کے لئے سیدھی راہ سہی ہے کہ وہ اپنی اس لاف و گزاف کو دلائل شافیہ کے ساتھ ثابت کر کے دکھلاویں اور پانچ ہزار روپیہ نقد ہم سے لے لیں اور ہمیں میکس مولر صاحب پر نہایت افسوس ہے کہ انہوں نے عیسائی کہلا کر اپنی کتب مقدسہ کے برخلاف اعتراض پیش کر دیا ہے کیونکہ ان کی مقدس کتابوں نے عرب کے نام کو عرب کے لفظ سے ہی بیان کیا ہے ۔ کیا ان کو اس جوش تعصب کے وقت انجیل بھی یاد نہ رہی۔ رسولوں کے اعمال کو دیکھیں کہ ان کے خدا نے عرب کے لفظ کو عرب کے نام سے ہی یا د کیا ہے۔ پس جبکہ ان کی مقدس کتا بیں بھی عرب کے لفظ کی وہ عزت بحال رکھتی ہیں جس کے مقابل پر عجم واقع ہے تو بڑا افسوس ہے کہ انہوں نے عیسائی کہلا کر اس نام کی عزت کو قبول کرنا نا گوار سمجھا ہے اور نیز مقابل کے نام کو بھی تسلیم نہیں کیا ان ک سوچنا چاہیے تھا کہ ان کی مقدس کتابوں نے عرب کے اس پاک مفہوم کو تصدیق کر لیا ہے تبھی تو عرب کو عرب کے نام سے ہی جو فصاحت کی خصوصیت کی طرف اشارہ کر رہا ہے جا بجا موسوم کیا ہے چنانچہ انجیل کے وجود سے پہلے بائیل میں بھی جا بجا عرب کا لفظ موجود ہے اور جن نبیوں نے عرب کے بارے میں نبوت کی ہے انہوں نے عرب کا لفظ استعمال کیا ہے اگر عرب کا لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تو لازم آئے گا کہ انجیل اور تمام وہ کتابیں جو کتب مقدسہ کہلاتی ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تو اس صورت میں اس بخل کی وجہ سے ان تمام کتابوں کو چھوڑنا پڑے گا۔ قوله : میرے نزدیک واقعی آغاز علم اللسان کا مانتیکوست کے پہلے روز سے ہوا۔ اقول : چونکہ رسولوں کے اعمال میں حواریوں کا طرح طرح کی بولی بولنا لکھا ہے اس لئے میکس مولر صاحب اس سے یہ حجت پکڑتے ہیں کہ بولیوں کی تحقیق کی بناء عیسائی مذہب نے ڈالی ہے۔ اب اہل نظر سوچیں کہ صاحب را قم ایسے بے اصل کلمات کے ساتھ کس قدر تعصب سے کام لے رہے ہیں ۔ یہ بات سوچنے کے لائق ہے کہ اعمال کے دوسرے باب میں اس بات کی تصریح کی ہے کہ حواریوں نے اس روز وہی بولیاں بولیں جو یروشلم کے یہودی بولتے تھے یہ نہیں لکھا کہ انہوں نے اس وقت چینی زبان یا سنسکرت یا جاپان کی بولی میں باتیں کرنا شروع کر دیا تھا بلکہ صاف لکھا ہے کہ ان تمام بولیوں کو یہودی سمجھتے تھے کیونکہ یروشلم میں وہ دیکھو یسعیاہ ۲۱ باب النبوۃ فی العرب