منن الرحمٰن — Page 158
۱۵۸ روحانی خزائن جلد ۹ منن الرحمن المذاهب والاديان۔ وما رضيت قط ببادرة الكلمات وما قنعت بطافي من الخيالات میں مشغول رہا ہوں۔ اور کبھی میں اس بات پر راضی نہ ہوا کہ سرسری کلمات پر ہی بس کروں اور کبھی میں نے سطحی خیالات پر قناعت نہ کی۔ بقيه حاشيه : : باپ اور پدر وغیرہ اسی عربی لفظ کی خراب شدہ صورتیں ہیں جس کو ہم انشاء اللہ اپنے محل پر بیان کریں گے اور لغت کی رو سے یہ لفظ چار مادوں کے لحاظ سے بنایا گیا ہے۔ (۱) اباء سے کیونکہ اباء اس پانی کو کہتے ہیں جو ختم نہ ہو چونکہ نطفہ کا پانی مدت دراز تک مرد میں پیدا ہوتا رہتا ہے اور اسی پانی سے حکیم ذوالجلال بچہ پیدا کرتا ہے۔ اس لئے اس پانی کا منبع آب کے نام سے موسوم ہوا۔ اسی لحاظ سے عرب کے لوگ عورت کی شرم گاہ کو بھی ابو دارس کہتے ہیں اور دارس حیض کا نام ہے (۱۳) یعنی حیض کا باپ چونکہ حیض بھی ایک مدت دراز تک منقطع نہیں ہوتا اس لئے اس کو بھی بطریق مجاز ایک پانی تصور کر کے عورت کی شرم گاہ کا نام ابودارس رکھا گیا ہے گویا وہ بھی ایک کنواں ہے جس کا پانی منقطع نہیں ہوتا اور دوسرے ابسی کے لفظ سے نکالا گیا ہے کیونکہ ایسی کے معنی لغت میں رک جانے اور بس کر جانے کے بھی ہیں چونکہ اس کام میں نر جو باپ کہلاتا ہے صرف نطفہ ڈالنے پر بس کر جاتا ہے اور آگے اس کا کوئی کام نہیں بلکہ اُم جس کے معنے آب کی نسبت بہت وسیع ہیں اپنے رحم میں اس نطفہ کو لیتی ہے اور اس کے خون سے وہ نطفہ پرورش پاتا ہے ۔ پس آپ کی وجہ تسمیہ میں یہ امر بھی ملحوظ ہے۔ تیسرے اباء کے لفظ سے مشتق ہے کیونکہ اباء سرکنڈہ کو کہتے ہیں چونکہ نر کا عضو تناسل سرکنڈے سے مشابہت رکھتا ہے اس لئے اس کا نام آب یعنی باپ ہوا۔ چو تھے۔ابھی کے لفظ سے جو سقوط اشتہاء کو کہتے ہیں چونکہ فراغت کے بعد مرد کی خواہش منقطع ہو جاتی ہے اس لئے یہ جزو بھی وجہ تسمیہ اب میں ماخوذ ہے۔ غرض یہ چار جزو ہیں جو اس قانون قدرت میں پائی جاتی ہیں جو باپ کے متعلق ہے لہذا انہیں کی بناء پر آب کا نام آب رکھا گیا اور جبکہ آپ کا وجہ تسمیہ معلوم ہو چکا تو دوسری زبانوں میں جو جو اس کے عوض میں نام بولا جاتا ہے جیسا کہ باپ یا قادر یا پدر یا پتا و غیرو ان کی وجوہ تسمیہ بھی ساتھ ہی معلوم ہو گئیں کیونکہ وہ سب اسی زبان سے نکلی ہیں اور وہ الفاظ بھی درحقیقت عربی بگڑی ہوئی ہے۔ اب ذرا شرم اور حیا سے سوچنا چاہیے کہ کیا ایسا لفظ جس کی وجوہ تسمیہ یہ ہیں خدا تعالیٰ پر اطلاق کر سکتے ہیں۔ اور اگر یہ سوال ہو کہ پھر پہلی کتابوں نے کیوں اطلاق کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو وہ تمام کتا بیں