منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 142 of 581

منن الرحمٰن — Page 142

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۴۲ منن الرحمن ۱۵ بعد اس بحث کو لکھیں گے کہ وہ حقیقی اور کامل اور اتم اور اکمل وحی جود نیا میں آنے والی تھی وہ صرف قرآن شریف ہے اور انہیں مقدمات سے اس نتیجہ کو ہ تفصیل ظاہر کریں گے کہ عربی کو اُم الالسنہ اور الہامی ماننے سے نہ صرف یہی ماننا پڑتا ہے کہ قرآن خدا تعالیٰ کا کلام ہے بلکہ یہ بھی ضروری طور پر ماننا پڑتا ہے کہ صرف قرآن ہی ہے جس کو حقیقی وحی اور اکمل اور اتم اور خاتم الکتب کہنا چاہیئے ۔ اور اب ہم مفردات کا نظام دکھلانے کے لئے اور نیز دوسری خوبیوں کے لحاظ سے اس کتاب کا عربی حصہ شروع کریں گے ولا حول و لا قوة الا بالله و هو العلى العظيم ـنبيـ قبل اس کے جو ہم اس کتاب کے عربی حصہ کو شروع کریں یہ بات ظاہر کرنا ضروریات سے ہے کہ پہلے ہم نے ارادہ کیا تھا کہ صرف عربی کے الفاظ مفردہ جمع کر کے دکھلاویں لیکن پھر ہم نے سوچا کہ اس صورت میں شاید بعض لوگ ہمارے مدعا کو صفائی سے نہ سمجھ سکیں کیونکہ بظاہر تھوڑے بہت مفردات ہر یک قوم کے پاس ہیں مثلاً اگر چہ سنسکرت مفردات کا ذخیرہ بہت ہی کم رکھتی ہے۔ چنانچہ اس زبان کے فاضل بیان کرتے ہیں کہ اس میں چار سو روٹ سے زیادہ نہیں مگر تا ہم اگر چہ صرف چار سو ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ کچھ بھی نہیں اور عربی کے محققوں نے گو تحقیق کیا ہے کہ اس کے مفردات ستائیس لاکھ سے بھی کچھ زیادہ ہیں لیکن جب تک ایک دشمن متعصب کو ایک قاعدہ کے ساتھ ملزم نہ کیا جائے وہ اپنے بخل اور شرارت اور چون و چرا سے باز نہیں آتا لہذا ہمیں یہ تجویز نہایت معقول معلوم ہوئی کہ ہر یک مضمون میں مفردات کا نظام طلب کیا جائے اور نظام مفردات سے مطلب ہمارا یہ ہے کہ ہر یک مضمون جہاں تک کہ طبیعی طور پر ختم ہو اس کو محض ایسی عبارت سے جو مفردات سے ہی ترکیب پاتی ہو انجام تک پہنچایا جائے اور پھر مخالفوں سے اس کی نظیر مانگی جائے یہ ایک ایسا طریق ہے جس سے بڑی صفائی سے فیصلہ ہو جائے گا اور