منن الرحمٰن — Page 134
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۳۴ منن الرحمن خود کچھ معنے نہیں ہوتے سو یہ خاصیت بھی عربی کے بعض حصوں میں موجود ہے۔ پھر امریکہ اور سنسکرت زبان میں معانی کے تغیر کے اظہار کے لئے گردانیں ہیں۔ سو وہ گردانیں عربی زبان میں بھی پائی جاتی ہیں اور چینی زبان میں گردا نہیں نہیں ہیں بلکہ وہاں نئے خیال کے اظہار کے لئے علیحدہ لفظ ہے سو بعض الفاظ میں یہ صورت بھی عربی میں موجود ہے۔ پس جبکہ غور کرنے اور پوری پوری خوض اور عمیق تحقیقات کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت زبان عربی تمام زبانوں کے خواص متفرقہ کی جامع ہے تو اس سے بالضرورت ماننا پڑتا ہے کہ تمام زبانیں عربی کی ہی فروعات ہیں۔ بعض لوگ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اگر تمام زبانوں کی جڑ اور اصل ایک ہی زبان کو تسلیم کیا جائے تو عقل اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ صرف تین چار ہزار برس تک ایسی زبانوں میں جو ایک ہی اصل سے نکلی تھیں اس قدر فرق ظاہر ہو گیا ہو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض در حقیقت از قبیل بنیاد فاسد بر فاسد ہے ورنہ یہ بات قطعی طور پر طے شدہ نہیں کہ عمر دنیا کی صرف چار یا پانچ ہزار برس تک گذری ہے اور پہلے اس سے زمین و آسمان کا نام و نشان تھا جو بلکہ نظر عمیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دنیا ایک مدت دراز سے آباد ہے ماسوا اس کے اختلاف السنہ کے لئے صرف باہمی بعد زمان یا مکان سبب نہیں بلکہ اس کا ایک قوی سبب یہ بھی ہے کہ خط استوا کے قرب یا بعد اور ستاروں کی ایک خاص وضع کی تاثیر اور دوسرے نامعلوم اسباب سے ہر یک قسم کی زمین اپنے باشندوں کی فطرت کو ایک خاص حلق اور لہجہ اور صورت تلفظ کی طرف میلان دیتی ہے اور وہی محرک رفتہ رفتہ ایک خاص وضع کلام کی طرف لے آتا ہے اسی وجہ سے دیکھا جاتا ہے کہ بعض ملک کے لوگ حرف زا بولنے پر قادر نہیں ہو سکتے اور بعض را بولنے پر قادر نہیں ہو سکتے جیسے انسانوں میں ملکوں کے اختلاف سے رنگوں کا اختلاف، عمروں کا اختلاف ، اخلاق کا اختلاف، امراض کا اختلاف ایک ضروری امر ہے۔ ایسا ہی یہ اختلاف بھی ضرور ہے کیونکہ انہیں مؤثرات کے نیچے زبانوں کا بھی اختلاف ہے۔ حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” نہ تھا “ ہونا چاہیے۔(ناشر)